تلمبہ: نجی ہسپتال سے 3 سالہ بچہ اغوا، پولیس کی 24گھنٹےسےٹامک ٹوئیاں

خانیوال (کرائم سیل) تلمبہ شہر کی حدود میں ایک نجی ہسپتال میں زچگی کے لیے داخل ایک خاتون کا تین سالہ بیٹا نامعلوم افراد اغوا کرکے لے گئے۔ 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود بچے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ بچے کی والدہ طلحہ نامی نجی ہسپتال میں داخل تھی۔ بچے کا والد عمر خان اپنے تین سالہ بیٹے حمید اللہ کو اس کی والدہ کے پاس چھوڑ کر دوائی لینے گیا اور واپس آیا تو بچہ غائب تھا اور کل صبح نو بجے سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ پولیس نے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں مگر برآمدگی کے حوالے سے پولیس کوئی حتمی فیصلہ اور لائحہ عمل طے نہیں کر پا رہی۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے تین مختلف ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں تاہم ابھی تک کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: تلمبہ: ہسپتال سےاغوا بچے کو ملزم خود چھوڑ گئے، پولیس نے کریڈٹ لےلیا

خانیوال(کرائم سیل)تلمبہ کے نجی طلحہ سرجیکل ہسپتال سے تین روز قبل لاپتہ اور مبینہ طور پر اغوا ہونے والا چار سالہ بچہ بالآخر مل گیا۔ ذرائع کے مطابق بچے کو ایک نامعلوم شخص انیس چک والے موڑ کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گیا۔مقامی افراد نے بچے کو دیکھ کر فوری طور پر اہلِ خانہ کو اطلاع دی، جس کے بعد بچے کو محفوظ طریقے سے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔ بچے کی بازیابی کی خبر سامنے آتے ہی اہلِ علاقہ اور ورثا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔یاد رہے کہ بچے کے اہلِ خانہ گزشتہ تین روز سے طلحہ سرجیکل ہسپتال کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور اپنے بچےحمیداللہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔تاہم اس تمام صورتحال میں پولیس کی کارکردگی اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہےکیونکہ تین روز گزرنے کے باوجود مبینہ اغوا کار یا اس واقعے میں ملوث افراد کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بچے کا اچانک موڑ کے قریب چھوڑا جانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، جن کے جواب سامنے آنا ضروری ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے اصل ملزمان کو بے نقاب کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس خود کو کامیابی کا کریڈٹ دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن شہری حلقوں اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ خام کریڈٹ ہے، کیونکہ بچے کی بازیابی میں پولیس کا کردار مبہم اور ناکام رہا۔ شہری حلقوں نے اعلیٰ افسران ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان، آئی جی پنجاب اور آر پی او ملتان سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مقامی پولیس کی ناکامی کو اجاگر کیا جا سکے اور اصل اغوا کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں