مظفرگڑھ میں سودی کاروبار، سرکاری ٹرائیکا سہولتکار، شہریوں سمیت افسر بھی شکار

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں مبینہ سود خور مافیا، نچلے درجے کے عدالتی اہلکاروں، انتظامیہ اور پولیس کی درپردہ پشت پناہی نے ایک اور ظلم کی داستان کو جنم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظفرگڑھ میں تعینات سابق مانیٹرنگ آفیسر طیب خان بھی اس مبینہ سودی کے جال میں بری طرح پھنس گئے، 10 لاکھ روپے کے قرض کے عوض نہ صرف
ان سے 26 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کر لیے بلکہ انہیں ایک سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی دھکیل دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مظفرگڑھ میں ایک جنرل سٹور کی آڑ میں مبینہ طور پر سود خوری کا دھندہ چلایا جا رہا ہے۔ اس کاروبار کا مرکزی کردار شیخ یوسف قریشی نامی شخص بتایا جاتا ہےجو بصیرہ بازار میں جنرل سٹور چلاتا ہے مگر الزام ہے کہ اسی آڑ میں سودی لین دین کا گھنائونا دھندہ کرتا ہے اور بھاری شرح سود پر لوگوں کو قرض دے کر انہیں جکڑ لیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 2016 میں طیب خان نے یوسف قریشی سے 10 لاکھ روپے قرض لیا۔ بعد ازاں سود در سود کی شکل میں یہ رقم بڑھتی گئی اور متاثرہ افسر سے 26 لاکھ 50 ہزار روپے چھ سال قبل ہی وصول کیے جا چکے ہیں۔ تاہم حیران کن طور پر اس کے باوجود مبینہ سود خور کی جانب سے مزید 10 لاکھ روپے کا تقاضا کیا جا رہا ہے اور دباؤ ڈالنے کے لیے پہلے سے لیے گئے بلینک چیکس بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مبینہ سود خور نے ان چیکس میں سے ایک چیک غضنفر نامی شخص کو فروخت کر دیا، جس کا اصل معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بعد ازاں اسی چیک کی بنیاد پر غضنفر نے طیب خان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اس کیس میں عدالتی نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک مرحلے پر سول جج افشاں صوفی صاحبہ نے قانون کی دفعہ 154 کے تحت سود خوری کے ثبوتوں کے باوجود متاثرہ افسر کے خلاف کارروائی کروائی بعد ازاں ہائی کورٹ نے بھی ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم اس کے باوجود معاملہ ختم ہونے کے بجائے مزید الجھتا چلا گیا۔ مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ بعد ازاں ایک اور سول جج شہزاد انجم نے سود خور کی درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے سرکاری افسر طیب خان کی تنخواہ اٹیچ کرنے کا اسسٹنٹ کمشنر کو حکم دے دیا حالانکہ قانونی ماہرین کے مطابق کسی گریڈ 17 سرکاری افسر کی تنخواہ براہ راست اٹیچ کرنے کے لیے متعلقہ سیکرٹری کی منظوری ضروری ہوتی ہے مگر عمل درآمد نہ ہونے پر سول جج شہزاد انجم نے اسسٹنٹ کمشنر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے ۔ صورتحال یہ ہے کہ عدالتی عملہ اور پولیس اہلکاران بھی سود خوروں کی مکمل حمایت میں ہیں۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مظفرگڑھ میں سود خوروں کے ایسے گروہ باقاعدہ منظم انداز میں کام کرتے ہیں اور بعض پولیس اہلکاروں اور عدالتی عملے کے نچلے درجے کے افراد کی مبینہ سرپرستی انہیں حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری ہی نہیں بلکہ سرکاری افسران بھی اس جال میں پھنس کر مالی اور قانونی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مزید انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ماضی میں مظفرگڑھ میں سود خوری کا کاروبار اس قدر وسیع ہو چکا تھا کہ بعض گروہوں نے باقاعدہ نجی بینکوں جیسے نیٹ ورک قائم کر رکھے تھے، جنہیں چند سال قبل اخبارات میں معاملہ اجاگر ہونے پر انتظامیہ نے کارروائی کرکے بند کروایا تھا۔ تاہم سود خوری کا یہ نیٹ ورک اب بھی مختلف شکلوں میں فعال ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مظفرگڑھ میں مبینہ سود خور مافیا، ان کے سہولت کاروں اور اس پورے نیٹ ورک کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عام شہریوں کو اس استحصالی نظام سے نجات دلائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں