مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی شرح میں معمولی کمی کی خبر بظاہر ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، مگر اس فیصلے کے پس منظر میں موجود تضادات، ابہامات اور ساختی کمزوریاں اس خوش فہمی کو قائم نہیں رہنے دیتیں۔ جب مہنگائی کے اشاریے، بنیادی مہنگائی کی سمت، نجی شعبے کے قرضوں کے اعداد و شمار اور صنعتی پیداوار کی کیفیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہوں تو شرح سود میں کمی محض ایک علامتی اشارہ بن کر رہ جاتی ہے، کوئی جامع معاشی حکمت عملی نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ شرح میں کمی کیوں کی گئی، اصل سوال یہ ہے کہ یہ کمی کس بنیاد پر، کن مقاصد کے تحت اور کن نتائج کے تصور کے ساتھ کی گئی ہے۔یہ امر قابل غور ہے کہ حالیہ مہینوں میں مجموعی مہنگائی کی رفتار میں بتدریج کمی ضرور آئی، مگر پالیسی بیان میں صارف قیمت اشاریے میں تازہ کمی کا واضح حوالہ دینے سے گریز کیا گیا۔ اس کے برعکس درمیانی مدت کے ہدف کو دہرا کر یہ تاثر دیا گیا کہ حالات قابو میں ہیں، حالانکہ بنیادی مہنگائی میں حالیہ نمایاں کمی اس بات کی متقاضی تھی کہ پالیسی کے جواز کو زیادہ شفاف اور تازہ اعداد و شمار سے جوڑا جاتا۔ جب مرکزی بینک کی باتیں پرانے اعداد پر کھڑی ہوں اور حکومتی اداروں کے تازہ اعداد مختلف تصویر دکھا رہے ہوں تو پالیسی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور منڈی کے شرکاء کے لیے سمت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ طے شدہ وعدوں میں زرعی اجناس، خصوصاً گندم اور چینی، کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کا ذکر شامل ہے۔ ان تبدیلیوں میں ضابطوں کا خاتمہ، تجارت میں نرمی اور قیمتوں پر کنٹرول ہٹانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ سب بظاہر مسابقت اور منڈی کی آزادی کے نام پر کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ طاقتور اجارہ دار گروہوں کے ہوتے ہوئے ایسی نرمی عموماً صارفین کے لیے مہنگائی اور قلت کا باعث بنتی ہے۔ اگر مسابقتی نگران ادارہ ملی بھگت روکنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو قیمتوں کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقوں پر ہی پڑتا ہے، اور یہی تجربہ ہم ماضی میں بارہا دیکھ چکے ہیں۔نجی شعبے کے قرضوں کے بارے میں بھی ایک واضح تضاد موجود ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف سرکاری مالیاتی اعداد بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں نجی شعبے کو خالص قرض کی فراہمی منفی رہی۔ جہاں کچھ اضافہ نظر آتا بھی ہے وہاں اس کا بڑا حصہ قیاس آرائی، گاڑیوں کی خرید اور درآمدی سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے سے۔ بڑے صنعتی شعبے کی سست رفتار، کارخانوں کی بندش کی خبریں اور بین الاقوامی کمپنیوں کا انخلا اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ معیشت کسی مضبوط بحالی کی طرف گامزن ہے۔شرح سود میں معمولی کمی کو سرمایہ کاری دوست ماحول کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے میں ہماری شرح سود اب بھی سب سے زیادہ ہے۔ جب مسابقتی ممالک کم لاگت سرمایہ فراہم کر رہے ہوں تو محض علامتی کمی سے سرمایہ کار کا اعتماد بحال نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری کا فیصلہ صرف شرح سود پر نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، توانائی کی قیمتوں، ٹیکس کے نظام، قانونی تحفظ اور طلب کی پائیداری پر ہوتا ہے۔ ان محاذوں پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہو تو شرح میں پچاس پوائنٹس کی کمی کسی بڑے فیصلے کو متحرک نہیں کر سکتی۔حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے مسلسل یہ اصرار کہ مالیاتی اور زری پالیسیاں سخت رہیں گی، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ترقی کی قیمت پر استحکام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایسی پالیسیوں کا نتیجہ عموماً یہ نکلتا ہے کہ کھپت میں عارضی اضافہ تو ہو جاتا ہے، خاص طور پر درآمدی اشیا سستی ہونے سے، مگر مقامی پیداوار، روزگار اور برآمدات کو وہ سہارا نہیں ملتا جس کی معیشت کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ میں اضافہ اور غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ بھی ایک ناگزیر ضمنی اثر بن جاتا ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے بیرونی قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار بھی تشویشناک ہے۔ جب روزگار کی سطح بلند ہو، صنعتی سرگرمی کمزور ہو اور معیشت کی بنیادیں نازک ہوں تو مضبوط رفتار کے دعوے عوام کے تجربے سے میل نہیں کھاتے۔ بے روزگاری اور غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے والے افراد کے لیے یہ دعوے محض اعداد کی بازی گری محسوس ہوتے ہیں، زمینی حقیقت نہیں۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مالیاتی پالیسی محض اشاروں اور مذاکراتی سمجھوتوں پر نہیں بلکہ درست، تازہ اور قابل اعتماد اعداد و شمار پر استوار ہو۔ شرح سود میں کمی اگر کرنی ہے تو وہ ایک واضح ترقیاتی حکمت عملی کے ساتھ ہو، جس میں صنعتی بحالی، زرعی اصلاحات، مسابقتی منڈی اور صارفین کے تحفظ کو یکجا کیا جائے۔ بصورت دیگر ایسی کمی نہ تو سرمایہ کاری کو متحرک کر پائے گی، نہ روزگار پیدا کرے گی، اور نہ ہی مہنگائی کے طویل مدتی مسئلے کا حل بن سکے گی۔ نرم شرح کا اعلان تب ہی بامعنی ہو سکتا ہے جب اس کے پیچھے سخت سوالوں کے واضح اور دیانت دار جواب موجود ہوں۔






