سوڈان کے ابیئے خطے میں آسمان نے ایک بار پھر اپنی سیاہی زمین پر انڈیل دی۔ ایک بے پائلٹ طیارہ نیچے آیا، چند لمحوں میں چھ زندگیاں بجھا گیاں، اور دنیا کے ضمیر نے حسبِ عادت تعزیت کے جملے لکھ کر فائل بند کر دی۔ بنگلہ دیش کے امن فوجی، جو نہ اپنے وطن کی جنگ لڑ رہے تھے نہ کسی اقتدار کے خواب میں تھے، اقوام متحدہ کے نیلے خود پہن کر ایک ایسے خطے میں کھڑے تھے جہاں امن ہمیشہ کرائے کے خیمے میں رہتا ہے۔ وہ خیمہ اس دن جل گیا۔ باقی رہ گئی لاشوں کی خاموشی اور بیانات کی گونج۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کی، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کی بات کی، ہمدردی اور یکجہتی کے الفاظ ادا کیے۔ یہ سب درست بھی ہے اور لازم بھی۔ مگر سیاہ حاشیے میں ایک سوال چبھتا رہتا ہے: کیا مذمتیں اس وقت بھی اتنی ہی بلند ہوتیں اگر نیلے خودوں کے بجائے یہ کسی غیر مرئی قوم کے عام لوگ ہوتے؟ امن فوجی اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ ان کے پاس پرچم ہوتا ہے، شناخت ہوتی ہے، اور ایک عالمی ادارے کی ڈھال۔ عام شہریوں کی موتیں عموماً اعداد میں بدل جاتی ہیں، اور اعداد پر آنسو نہیں بہتے۔یہ چھ جانیں بنگلہ دیش کے گھروں میں ماتم بن کر اتریں۔ ماں نے وردی کو سینے سے لگایا ہوگا، بچے نے تصویر کو دیکھا ہوگا، اور کسی نے آخری آواز کو یاد کر کے رات کاٹ لی ہوگی۔ ہم انہیں “اعلیٰ قربانی” کہتے ہیں، مگر قربانی کی تعریف لکھتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ قربانی مانگنے والا کون ہے۔ امن کی سیاست میں قربانی ہمیشہ غریب ملکوں کے سپاہی دیتے ہیں، اور فیصلے طاقتور دارالحکومتوں میں ہوتے ہیں۔ نیلے خودوں کے نیچے اکثر وہی سر ہوتے ہیں جو اپنے وطن میں روزگار، عزت اور خدمت کے خواب لے کر نکلتے ہیں۔ابیئے کی سرزمین متنازع ہے، جیسے ہماری صدی خود متنازع ہے۔ یہاں سرحدیں نقشوں میں سیدھی، مگر زمین پر کٹی ہوئی ہیں۔ امن فوجی اس کٹاؤ کے بیچ کھڑے رہتے ہیں، ایک ہاتھ میں ضبط اور دوسرے میں صبر۔ مگر جدید جنگ صبر کو نشانہ بناتی ہے۔ بے پائلٹ طیارہ نہ آنکھ دیکھتا ہے نہ چہرہ پہچانتا ہے؛ وہ بس حکم مانتا ہے۔ اور حکم ہمیشہ کسی ایسے کمرے سے آتا ہے جہاں کھڑکیاں بند اور ضمیر موٹا ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے حملے کی مذمت کی، ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی، اور اسے ناقابلِ جواز کہا۔ یہ بھی ضروری تھا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ناقابلِ جواز کہہ دینے سے جنگیں رکتی نہیں۔ جنگیں تب رکتی ہیں جب اسلحہ بیچنے والے رکیں، جب پراکسی پالنے والے شرمندہ ہوں، اور جب طاقت کے کھیل میں انسان کو مہرہ بنانا مہنگا پڑ جائے۔ ورنہ نیلے خود بدلتے رہیں گے، آسمان سیاہ ہی رہے گا۔سیاہ حاشیے میں ایک افسانہ بھی چلتا ہے۔ اس افسانے میں امن فوجی رات کو کیمپ میں چائے بناتے ہیں، گھر کی باتیں کرتے ہیں، اور سوچتے ہیں کہ یہ ڈیوٹی ختم ہو تو واپس جا کر بچے کے اسکول کی فیس بھرنی ہے۔ پھر ایک شور آتا ہے، زمین لرزتی ہے، اور افسانہ اچانک حقیقت بن جاتا ہے۔ صبح خبر بن جاتی ہے: چھ ہلاک، آٹھ زخمی۔ افسانہ ختم، خبر شروع۔ مگر خبر میں وہ چائے نہیں ہوتی، وہ خواب نہیں ہوتے، وہ لرزش نہیں ہوتی جو آخری لمحے میں ہاتھوں سے گزرتی ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کی یکجہتی اس لمحے ایک انسانی رشتہ بن سکتی ہے۔ دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں قربانیاں دی ہیں۔ دونوں جانتے ہیں کہ عالمی امن کا بوجھ کن کندھوں پر رکھا جاتا ہے۔ مگر اس رشتے کو محض تعزیتی بیانات تک محدود نہ رہنا چاہیے۔ سوال اٹھانا چاہیے کہ امن فوجیوں کی سلامتی کیوں بار بار وعدوں کے باوجود کمزور رہتی ہے؟ تحقیق کیوں سست اور احتساب کیوں دھندلا ہوتا ہے؟ اور کب تک نیلے خود سیاہ آسمان کے نیچے اکیلے کھڑے رہیں گے؟یہ حملہ بزدلانہ کہا گیا۔ بزدلی واقعی یہی ہے کہ غیر مسلح خدمت گزاروں کو نشانہ بنایا جائے۔ مگر اس سے بڑی بزدلی وہ خاموشی ہے جو بعد میں طاری ہو جاتی ہے۔ جب تحقیقات فائلوں میں دفن ہوں، ذمہ دار نامعلوم رہیں، اور اگلا حملہ پہلے کی طرح “افسوسناک” قرار پائے۔ سیاہ حاشیے میں لکھا جاتا ہے کہ انصاف تاخیر سے آئے تو خبر بن جاتا ہے، اور نہ آئے تو روایت۔ہم نیلے خودوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سلام بجا ہے۔ مگر سلام کے ساتھ سوال بھی ہونا چاہیے۔ کیا عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے یا صرف امن کا انتظام؟ کیا امن فوجیوں کی حفاظت ایک ترجیح ہے یا ایک سطر؟ جب تک یہ سوال زندہ نہیں ہوں گے، ہر نیا آسمان سیاہ اور ہر نیا خود نیلا ہی رہے گا۔آخر میں، چھ نام ہیں جو اب فہرست بن چکے ہیں، اور آٹھ زخم ہیں جو وقت کے ساتھ بھر جائیں گے یا نہیں۔ مگر ایک زخم ایسا ہے جو ہر حملے کے بعد گہرا ہوتا ہے: یہ احساس کہ امن کے نام پر مرنے والوں کی یاد جلدی پڑ جاتی ہے۔ سیاہ حاشیے میں ہم یہی لکھتے ہیں کہ اگر امن کو واقعی بچانا ہے تو پہلے امن کے رکھوالوں کو بچانا ہوگا۔ ورنہ تعزیتیں چلتی رہیں گی، اور آسمان سیاہ ہی رہے گا۔
دفن ہوتا خواب
چالیس برس پہلے ڈھاکہ میں جنوب ایشیا کے سات ملکوں کے رہنماؤں نے ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے جس کا وعدہ بڑا سادہ اور بڑا انسانی تھا: اس خطے کے عوام کی فلاح، باہمی تعاون، تجارت، امن اور رابطہ۔ اس دن یہ خواب دیکھا گیا تھا کہ سرحدوں سے بٹے ہوئے، تاریخ کے زخم اٹھائے ہوئے اور نوآبادیاتی ورثے سے نکلتے ہوئے یہ معاشرے ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ آج چار دہائیاں گزرنے کے بعد وہ خواب ایک ایسی فائل بن چکا ہے جس پر گرد جمی ہے، اور جسے ہر سال ایک دن نکال کر جھاڑا جاتا ہے، رسمی بیانات دیے جاتے ہیں اور پھر واپس الماری میں رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنظیم کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک پورے خطے کے اجتماعی شعور کی شکست ہے۔جنوبی ایشیائی تعاون کا تصور کسی تجارتی معاہدے سے زیادہ تھا۔ یہ ایک اخلاقی وعدہ تھا کہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں دشمنی، عسکریت اور نفرت کے یرغمال نہیں رہیں گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم ابتدا ہی سے ریاستی انا، قومی غرور اور طاقت کے عدم توازن کے بوجھ تلے دبی رہی۔ چار دہائیوں میں اگر کوئی سب سے نمایاں بات سامنے آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ اس خطے کی ریاستیں عوام کے مفاد کے نام پر اکٹھی ضرور ہوئیں، مگر عوام کو مرکز بنانے پر کبھی متفق نہ ہو سکیں۔پاکستان کی قیادت ہر سال اس تنظیم سے وابستگی کا اعادہ کرتی ہے، تجارت بڑھانے اور تعاون کی بات کرتی ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ درست اور ضروری ہیں، مگر سیاہ حاشیے میں لکھا یہ جاتا ہے کہ اصل مسئلہ نیت کے اظہار کا نہیں، طاقت کے رویے کا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی دشمنی نے اس علاقائی خواب کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ یہ دشمنی محض دو ریاستوں کا باہمی تنازع نہیں رہی بلکہ پورے خطے کے گلے میں پڑی زنجیر بن چکی ہے۔ دستاویز میں صاف لکھا گیا تھا کہ دو طرفہ تنازعات اس پلیٹ فارم پر نہیں لائے جائیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی تنازعات اس تنظیم کے دروازے پر پہرہ دیتے رہے۔ایک وقت تھا جب پاکستان کے اندر سخت گیر عناصر نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ مگر گزشتہ کئی برسوں سے یہ حقیقت زیادہ تلخ ہو چکی ہے کہ علاقائی تعاون کو مفلوج کرنے میں بھارت کا کردار مرکزی ہے۔ اسلام آباد میں اجلاس کے بائیکاٹ کا منصوبہ بنانا، دوسرے ممالک کو ساتھ ملا کر ایک رکن کو تنہا کرنا، اور اپنی معاشی و سیاسی طاقت کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اس خطے میں کثیر الجہتی تعاون کے جنازے میں کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔دو ہزار چودہ کے بعد سے اس تنظیم کا سربراہی اجلاس نہ ہو پانا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ علامت بتاتی ہے کہ جنوب ایشیا میں کثیر الجہتی نظام دم توڑ رہا ہے۔ جب ایک بڑا ملک خود کو پورے خطے کا مالک سمجھنے لگے اور چھوٹے ممالک کو حکم کے تابع ریاستوں کی طرح دیکھے تو پھر کسی بھی اجتماعی فورم کی روح باقی نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں کثیر الجہتی ادارے محض تصویری یادگار بن جاتے ہیں۔وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ کثیر الجہتی نظام حملے کی زد میں ہے، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔ یہ حملہ ٹینکوں یا توپوں سے نہیں ہو رہا بلکہ خاموشی، بائیکاٹ، انا اور بالادستی کے رویے سے ہو رہا ہے۔ جب ایک ریاست یہ طے کر لے کہ تعاون صرف اسی صورت ممکن ہے جب باقی سب اس کے بیانیے کے تابع ہوں، تو پھر تعاون نہیں، اطاعت باقی رہ جاتی ہے۔اس پس منظر میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس تنظیم کی آخری رسومات ادا کر دی جائیں؟ کیا خطے کے ممالک کو کسی اور سمت دیکھنی چاہیے، کسی اور اتحاد میں پناہ لینی چاہیے؟ یہ سوال بظاہر عملی لگتا ہے، مگر سیاہ حاشیے میں اس کا جواب اتنا آسان نہیں۔ دوسری عالمی اور علاقائی تنظیموں میں شمولیت اپنی جگہ فائدہ مند ہو سکتی ہے، مگر وہ جنوب ایشیا کے اس بنیادی مسئلے کو حل نہیں کر سکتیں کہ ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا، سرحدیں خواہ جتنی سخت کر لی جائیں، ہم ایک دوسرے سے کٹ نہیں سکتے۔جنوب ایشیا میں باہمی تجارت کا انتہائی کم ہونا اس ناکامی کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ دنیا کے دوسرے خطوں میں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت ترقی کی بنیاد بنی، مگر یہاں پڑوسی ہونا ہی جرم بن گیا۔ جب قریبی ممالک ایک دوسرے سے خرید و فروخت نہیں کرتے تو وہ لازماً دور دراز طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں، اور یوں ایک نئی قسم کی معاشی غلامی جنم لیتی ہے۔ یہ غلامی زیادہ خاموش مگر زیادہ گہری ہوتی ہے۔سیاہ حاشیے میں ایک افسانہ بھی چلتا ہے۔ اس افسانے میں سرحد کے دونوں طرف بسنے والے لوگ ایک ہی زبان کے لفظ سمجھتے ہیں، ایک ہی موسم کی شدت جھیلتے ہیں، ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر ان کے بیچ ایک ایسی دیوار کھڑی ہے جس پر ریاستوں کے جھنڈے لگے ہیں اور بندوقیں تنی ہیں۔ اس دیوار کے ایک طرف غربت ہے، دوسری طرف بھی غربت؛ ایک طرف بے روزگاری ہے، دوسری طرف بھی بے روزگاری؛ ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے، دوسری طرف بھی۔ مگر دیوار کے رکھوالے انہیں بتاتے ہیں کہ دشمن صرف دوسری طرف ہے۔یہ تنظیم اگر واقعی زندہ کی جا سکتی ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے بالادستی کے تصور کو دفن کرنا ہوگا۔ کسی ایک ریاست کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پورے خطے کی سمت طے کرے۔ خودمختاری کا احترام محض تقریروں میں نہیں، عملی رویوں میں نظر آنا چاہیے۔ خاص طور پر بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمسایوں کو دباؤ میں رکھ کر وہ خطے کا قائد نہیں بن سکتا، بلکہ عدم استحکام کا مرکز بن جاتا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات اس وقت تاریخ کی بدترین سطح پر ہیں۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب علاقائی پلیٹ فارم سب سے زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔ دشمنی کے دنوں میں مکالمے کے دروازے بند کر دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے نسل در نسل منتقل کرنے کا طریقہ ہے۔ اگر اس تنظیم کا کوئی مستقبل ہے تو وہ اسی میں ہے کہ کم از کم عوامی سطح کے رابطے، ثقافتی میل جول اور محدود تجارتی تعاون کو سیاست کی یرغمالی سے آزاد کیا جائے۔سیاہ حاشیے میں ایک اور حقیقت بھی درج ہے: جنوب ایشیا کی ریاستیں عوامی فلاح کے نام پر بنتی تنظیموں کو بھی اشرافیہ کے کلب بنا دیتی ہیں۔ یہاں کسان، مزدور، طالب علم اور عام شہری اس خواب میں کہیں شامل نہیں۔ فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور عوام کو صرف نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ جب تک عوام کو اس تعاون کا حقیقی فریق نہیں بنایا جائے گا، تب تک ہر علاقائی خواب کاغذی ہی رہے گا۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ یہ تنظیم زندہ رہے یا مر جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنوب ایشیا کے عوام امن، روٹی، روزگار اور عزت کے حقدار ہیں یا نہیں۔ اگر جواب ہاں ہے تو پھر اس خواب کو اتنی آسانی سے دفن نہیں کیا جانا چاہیے۔ چالیس برس کی ناکامی کے باوجود یہ خواب اب بھی معنی رکھتا ہے، کیونکہ اس کے متبادل میں جو کچھ ہے وہ مزید عسکریت، مزید نفرت اور مزید تنہائی ہے۔سیاہ حاشیے میں آخری جملہ یہی لکھا جاتا ہے کہ یہ تنظیم دراصل ایک آئینہ ہے۔ اس میں ہمیں اپنی ریاستوں کی اصل شکل نظر آتی ہے: انا پرست، خوف زدہ اور عوام سے کٹی ہوئی۔ اگر کبھی یہ آئینہ ٹوٹا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ خواب مر گیا، بلکہ یہ کہ خواب دیکھنے والے ابھی بیدار نہیں ہوئے۔
وہ گانے جو دفن ہو گئے
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے؟یہ مصرع اب صرف ناصر کاظمی کا نہیں رہا، یہ اس خطے کی اجتماعی قبر پر لکھی ہوئی تحریر ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کی آزادی—یہ دو لفظ نہیں، دو سرکاری بیانیے ہیں جو ایک ہی انسانی سانحے کو دو مختلف زاویوں سے چھپاتے ہیں۔ ایک طرف شکست کا ماتم ہے، دوسری طرف فتح کا جشن، مگر ان دونوں کے بیچ جو کچھ کچلا گیا، وہ انسان تھا۔ وہی انسان جو گاتا تھا، جو ہنستا تھا، جو ساحلوں پر بیٹھ کر آنے والے کل کے خواب بُنتا تھا۔ناصر کاظمی نے سوال پوچھا، فیض نے دکھ کو زبان دی۔“ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی ملاقاتوں کے بعد”یہ مصرع محض بچھڑنے کا نوحہ نہیں تھا، یہ اس اجتماعی اجنبیت کا اعلان تھا جو انیس سو اکہتر کے بعد دونوں طرف پھیل گئی۔ کل تک جو اپنے تھے، وہ اچانک اجنبی ہو گئے۔ زبان، لہجہ، تاریخ—سب بدل دیے گئے۔ پھر فیض نے ایک اور مصرعہ لکھا:“خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد”یہ مصرع امید بھی تھا اور خود فریبی بھی۔ امید اس بات کی کہ وقت شاید زخم بھر دے، اور خود فریبی اس خیال کی کہ خون کبھی بارش سے دھلتا ہے۔مشرق کے بنگالی شاعروں نے اسی مصرعے پر جواب لکھا:خون کے دھبے برساتوں سے نہیں دھلتے۔یہ جواب محض ادبی اختلاف نہیں تھا، یہ تاریخ کی عدالت میں دیا گیا بیان تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جن لاشوں پر ریاستیں بنی ہوں، ان کا خون موسموں سے نہیں مٹتا۔ جن ماؤں نے بیٹے کھوئے ہوں، ان کے آنسو کسی تقویم کے تابع نہیں ہوتے۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں شاعری نے سیاست سے زیادہ سچ بول دیا۔پاکستانی بیانیہ آج بھی اسے سقوط کہتا ہے۔ جیسے کوئی سامان ہاتھ سے گر گیا ہو، جیسے کوئی خطہ حادثاتی طور پر الگ ہو گیا ہو۔ اس بیانیے میں جرم کم اور بدقسمتی زیادہ ہے۔ یہاں غلطی کی بات ہوتی ہے، مگر ظلم کا لفظ دب جاتا ہے۔ یہاں جنرلوں کی حکمتِ عملی زیرِ بحث آتی ہے، مگر کچلے گئے انسان پس منظر میں رہتے ہیں۔ دوسری طرف بنگلہ دیشی بیانیہ اسے آزادی کہتا ہے—جائز بھی ہے—مگر اس آزادی کے بیچ جو غیر بنگالی لاشیں گریں، جو کیمپوں میں قید ہوئیں، جو دہائیوں تک بے وطن رہیں، وہ اس بیانیے میں خاموشی کی سزا پاتی ہیں۔منٹو کی ٹھنڈی چھری یہی کرتی ہے—وہ چیختی نہیں، وہ آہستہ کاٹتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے:اگر یہ آزادی تھی تو سب آزاد کیوں نہ ہوئے؟اگر یہ سقوط تھا تو انسان کیوں نہ گِنا گیا؟سقوط اور آزادی کی یہ بائنری دراصل طاقت کی زبان ہے۔ طاقت ہمیشہ نتیجہ دیکھتی ہے، عمل نہیں۔ نتیجہ یہ تھا کہ ایک ریاست ٹوٹ گئی اور دوسری بن گئی۔ مگر عمل یہ تھا کہ عورتوں کی عزت پامال ہوئی، دانشوروں کو چن چن کر مارا گیا، گاؤں جلا دیے گئے، اور انسان کو شناخت کے خانوں میں بانٹ دیا گیا۔ طاقت نے کہا: یہ ہمارا آدمی ہے، یہ دشمن ہے۔ اور اسی فیصلے پر زندگیاں ختم ہوتی رہیں۔وہ ساحلوں پہ گانے والے اس لیے غائب ہوئے کہ وہ کسی ایک بیانیے میں فٹ نہیں آتے تھے۔ وہ نہ مکمل پاکستانی تھے نہ مکمل بنگالی، وہ انسان تھے۔ اور انسان ہونا اس خطے میں سب سے بڑا جرم رہا ہے۔ ریاستیں نظریہ مانگتی ہیں، وفاداری مانگتی ہیں، خاموشی مانگتی ہیں۔ گانے والا خاموش نہیں رہتا، اس لیے پہلے اس کا گلا گھونٹا جاتا ہے، پھر اس کی یاد کو متنازع بنا دیا جاتا ہے۔فیض کی امید اور بنگالی شاعروں کا انکار دراصل دو تجربات کی آوازیں ہیں۔ فیض نے جبر کے اندر رہتے ہوئے وقت پر بھروسا کیا۔ بنگالی شاعروں نے لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کر وقت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ایک نے کہا: شاید دھل جائیں۔ دوسرے نے کہا: نہیں دھلتے۔ اور تاریخ نے دکھایا کہ خون واقعی نہیں دھلتا، وہ صرف نصاب سے حذف کیا جاتا ہے، یادداشت سے نہیں۔آج پچاس برس بعد بھی دونوں ریاستیں سچ سے خائف ہیں۔ پاکستان اپنی فوجی کارروائی کو “غلطی” کہہ کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے، بنگلہ دیش اپنے اندرونی قتل عام کو “ردعمل” کہہ کر۔ دونوں نے سچ کو آدھا آدھا کاٹ کر اپنے اپنے قومی ترانوں کے نیچے دفن کر دیا ہے۔ یہ وہی عمل ہے جسے منٹو کہتا:یہ سچ نہیں، یہ سہولت ہے۔وہ ساحل اب بھی موجود ہیں، مگر خالی ہیں۔ وہاں اب گانے نہیں، بیانات گونجتے ہیں۔ وہاں انسان نہیں، تاریخ کے بورڈ لگے ہیں۔ وہاں کوئی پوچھتا نہیں کہ ہم کیوں اجنبی ہوئے، بس بتایا جاتا ہے کہ ہم کب دشمن بنے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعری سیاست سے ہار جاتی ہے، اور لاشیں اعداد میں بدل جاتی ہیں۔ناصر کاظمی کا سوال آج بھی زندہ ہے۔ فیض کا مصرع آج بھی ادھورا ہے۔ اور بنگالی شاعروں کا جواب آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ خون کے دھبے واقعی برساتوں سے نہیں دھلتے۔ وہ تب دھلتے ہیں—اگر کبھی دھلیں—جب سچ پورا بولا جائے، جب دونوں طرف کے مقتول انسان مانے جائیں، اور جب سقوط اور آزادی کے بیچ انسان کو واپس رکھا جائے۔ورنہ تاریخ ہر دسمبر یہی سوال دہراتی رہے گی:وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے؟اور ہم ہر بار ریاستی زبان میں یہی جواب دیں گے:خاموشی۔






