بدانتظامی کا سمندر

جب صحت کے نظام میں بدانتظامی، نااہلی اور بدعنوانی پر لوگ شکوہ کرتے ہیں تو اصل مسئلہ صرف ہسپتالوں، ادویات یا ڈاکٹر اور مریض کے رشتے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک وسیع تر ریاستی بحران کی جھلک ہوتا ہے۔ صحت کا شعبہ دراصل ایک بڑے سیاسی، معاشی اور انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہے، جس کی بنیادیں خود کمزور ہوں تو اس کے کسی ایک حصے کو درست کر لینا نہ ممکن ہوتا ہے اور نہ پائیدار۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظرانداز کر کے ہم بار بار یہ سوال دہراتے رہتے ہیں کہ صحت کا نظام کیوں ناکام ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب مجموعی طرزِ حکمرانی بدعنوانی، نااہلی اور اشرافی قبضے کا شکار ہو تو کسی ایک شعبے میں اچھی حکمرانی کا جزیرہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں صحت کا شعبہ بھی اسی طوفانی سمندر میں گھرا ہوتا ہے جہاں بدانتظامی کی اونچی لہریں ہر سمت سے ٹکراتی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی حالیہ تشخیصی رپورٹ نے اس سمندر کی اونچی موجوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں نہ صرف بدعنوانی کے خوفناک حجم کو اعداد و شمار کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چار مختلف مالیاتی پروگراموں کے باوجود بنیادی نوعیت کی اصلاحات کیوں نافذ نہ ہو سکیں۔ رپورٹ اس امر پر افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ ہر بار مسائل کی نشاندہی تو ہوئی مگر ریاستی ڈھانچہ اپنی اصل کمزوریوں کو دور کرنے میں ناکام رہا۔ یوں بدعنوانی ایک دیمک کی طرح پورے سماج میں اپنے بل اور زیرزمین راستے بناتی چلی گئی۔
اعداد و شمار کی زبان میں یہ تصویر اور بھی ہولناک ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کمزور طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار کا پانچ سے چھ اعشاریہ پانچ فیصد حصہ بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر حکمرانی کے نظام میں سنجیدہ اصلاحات نافذ کر دی جائیں تو ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اسی تناسب سے اضافہ ممکن ہے۔ یہ کوئی معمولی عدد نہیں، بلکہ ایک ایسی رقم ہے جو ریاست کے معاشی ڈھانچے کو یکسر بدل سکتی ہے۔ موجودہ مجموعی قومی پیداوار کے تناظر میں یہ رقم کھربوں روپے بنتی ہے، جو ملک کے کل صحت اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدعنوانی کے باعث جو وسائل ضائع ہو رہے ہیں، وہ پورے ملک کے صحت کے نظام کو کئی گنا بہتر بنا سکتے ہیں، اگر انہیں درست سمت میں استعمال کیا جائے۔
اس حقیقت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اکثر صحت کے بجٹ کی کمی، ہسپتالوں کی زبوں حالی اور ادویات کی قلت پر بات کرتے ہیں مگر اس سوال سے گریز کرتے ہیں کہ وسائل آخر کہاں جا رہے ہیں۔ جب بدعنوانی مجموعی قومی پیداوار کے ایک بڑے حصے کو نگل جائے تو پھر تعلیم، صحت، صاف پانی اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔ بدعنوانی کی یہ رقم ملک کے سالانہ بجٹ کے بڑے حصے، برآمدات کی قدر اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات کے برابر بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف وفاقی سطح کے ہیں؛ اگر صوبائی سطح پر ہونے والی بدعنوانی کو بھی شامل کر لیا جائے تو تصویر مزید بھیانک ہو سکتی ہے۔
حکمرانی کے اس بحران کی جڑیں گہری ہیں۔ ریاست کا معیشت میں غیر متوازن کردار، نوکر شاہی پر کمزور نگرانی، ادارہ جاتی صلاحیت کی کمی، سیاسی سرپرستی اور عوامی پالیسی سازی کا گٹھ جوڑ، اور عدالتی اداروں میں بدعنوانی کے خطرات، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور عوام کا نظام پر یقین اٹھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً عام شہری کو معمولی خدمات کے حصول کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے، جبکہ اعلیٰ سطح پر پالیسیاں اور طریقہ کار اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ اشرافیہ ریاستی اختیار کو استعمال کر کے خود کو مزید مالا مال کر سکے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے ریاست پر اشرافی قبضہ کہا جاتا ہے، جہاں سیاست کے ذریعے معیشت کو چند طاقتور طبقات کے لیے آسان شکار بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بدعنوانی محض نچلی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کی نوعیت اور ساخت بھی رپورٹ کی سفارشات سے عیاں ہوتی ہے۔ عوامی خریداری کے نظام میں شفافیت کی کمی، سرمایہ کاری سہولت کونسل میں وضاحت کا فقدان، کارپوریٹ نگرانی کے اداروں کے پیچیدہ قواعد، قوانین کی ڈیجیٹل تشکیل میں سستی، اور عدالتوں میں معاشی مقدمات کے انبار، یہ سب عوامل نجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اسی طرح ٹیکس کے نظام کی پیچیدگی، قومی محصولات کے ادارے کی کمزوری، بجٹ سازی کے ناقص طریقے، ترقیاتی منصوبوں کی غیر مؤثر منصوبہ بندی اور نگرانی، اور بدعنوانی کے خطرات سے دوچار بڑے وفاقی ادارے، ریاستی کارکردگی کو مفلوج کر دیتے ہیں۔
نگرانی اور احتساب کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ حسابات کے اعلیٰ ترین نگران ادارے کی خودمختاری، منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی مؤثر تفتیش، اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی شفافیت، اور اہم نگرانی کے اداروں میں میرٹ پر تقرریاں، یہ سب وہ اقدامات ہیں جن کے بغیر احتساب کا نظام محض ایک نعرہ رہ جاتا ہے۔ جب احتساب کمزور ہو تو بدعنوانی طاقتور ہو جاتی ہے، اور پھر اس کا اثر ہر شعبے میں محسوس ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری بحث کا صحت کے نظام سے کیا تعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت کے شعبے کی بدانتظامی اسی مجموعی بحران کا ایک عکس ہے۔ عوامی خریداری کے نظام میں بدعنوانی کی مثال لیں تو سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں ہونے والی بے ضابطگیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کم معیار کی ادویات، غیر ضروری مہنگی مشینری، اور کمیشن پر مبنی فیصلے روزمرہ کی حقیقت بن چکے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے منتظمین اور طبی عملہ سپلائرز، دوا ساز کمپنیوں اور تشخیصی مراکز سے فائدے اٹھاتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مریض کو ناقص سہولیات ملتی ہیں۔ نجی شعبے میں بھی ان معاملات کی مؤثر نگرانی کا فقدان ہے، جس سے استحصال کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔
صحت کے نظام میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی غیر واضح تقسیم اور ہم آہنگی کی کمی ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ قومی سطح کے صحت عامہ کے مسائل پر مشترکہ حکمت عملی نہ ہونے کے باعث وبائیں، غذائی قلت اور آبادی میں اضافے جیسے چیلنجز مسلسل نظرانداز ہوتے رہے ہیں۔ انتظامی اور انتظامی صلاحیت کی کمی، تکنیکی فیصلوں میں غیر ماہر افسران کی مداخلت، اور ماہرین کا سرکاری نظام کے طریقہ کار سے ناواقف ہونا، یہ سب عوامل صحت کے شعبے کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ آبادی اور صحت کے شعبوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود عدم ربط نے دونوں کو نقصان پہنچایا ہے، اور انہیں یکجا کرنے کی ہر کوشش سیاسی تنازعات کی نذر ہو جاتی ہے۔
ان تمام حقائق کے تناظر میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ صحت کے نظام کی اصلاح محض ہسپتالوں کی مرمت، بجٹ میں معمولی اضافہ یا چند انتظامی تبدیلیوں سے ممکن نہیں۔ جب تک ریاستی سطح پر بدانتظامی، بدعنوانی اور اشرافی قبضے کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، تب تک کسی ایک شعبے میں پائیدار بہتری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صحت کا شعبہ معیشت، سیاست، عدلیہ اور انتظامیہ سے جڑا ہوا ہے، اور ان میں سے کسی ایک میں بھی خرابی باقی رہے تو اس کا اثر باقی سب پر پڑتا ہے۔
ایک شہری، خواہ وہ صحت کا پیشہ ور ہو یا نہیں، اس پورے منظرنامے کو سمجھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم بڑے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کی استحصالی نوعیت کو نہیں پہچانیں گے، تب تک ہم چھوٹے مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں وقت ضائع کرتے رہیں گے۔ اجتماعی شعور کی تشکیل، شہری دباؤ اور منظم سماجی عمل کے بغیر اصلاحات ممکن نہیں۔ ضروری ہے کہ معاشرہ اس رپورٹ کو محض ایک خبر سمجھ کر بھلا نہ دے، بلکہ اسے اپنی روزمرہ زندگی، اپنے اداروں اور اپنے شعبوں سے جوڑ کر دیکھے۔
آخرکار یہ سوال صرف صحت کے نظام کا نہیں بلکہ ریاست کے مجموعی کردار کا ہے۔ کیا ہم ایک ایسے نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں بدعنوانی وسائل کو کھا جاتی ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں، یا ہم اجتماعی طور پر اس استحصالی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ جب تک اس سوال کا جواب عمل کی صورت میں سامنے نہیں آتا، تب تک صحت سمیت کوئی بھی شعبہ واقعی صحت مند نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب سمندر خود طوفانی ہو تو کسی ایک جزیرے کو محفوظ رکھنا محض ایک خوش فہمی رہ جاتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں