انتہاپسندی کا امتحان

پاکستان کی ریاست جب بھی انتہاپسندی کے مسئلے سے نمٹنے کی بات کرتی ہے تو اس کے ماضی کا ریکارڈ خود اس کے سامنے ایک کڑا سوال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ریاست نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں، عام شہری خون میں نہائے، بازار، مسجدیں، امام بارگاہیں اور تعلیمی ادارے نشانہ بنے، اور معاشرے کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا۔ اس کے باوجود ریاستی رویہ ایک مستقل اور مربوط حکمت عملی کے بجائے زیادہ تر وقتی جوش، پھر خاموشی اور فراموشی کے درمیان جھولتا رہا۔ کبھی پوری قوت سے کارروائیاں ہوئیں، بیانات آئے، منصوبے بنے، اور پھر آہستہ آہستہ وہی پالیسی فائلوں میں دب کر رہ گئی۔ یہی غیر مستقل مزاجی آج بھی ریاست کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جس کے نتائج ہمیں بار بار بھگتنا پڑتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں حکومت نے ایک بار پھر انتہاپسندی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے علما کے قومی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرقہ واریت کے خاتمے اور تمام مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا، اور واضح کیا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست اور قابلِ تحسین ہے، کیونکہ مذہبی تشدد اور نفرت انگیزی نے نہ صرف معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کیا ہے بلکہ کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کے امکانات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کوئی بھی مقامی یا بیرونی سرمایہ کار ایسے ملک میں سرمایہ لگانے پر آمادہ نہیں ہوتا جہاں مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ہجوم سڑکوں پر نکل آئے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرے، اور معمول کی زندگی کو مفلوج کر دے۔ قانون کی بالادستی اور جان و مال کا تحفظ وہ بنیادی شرائط ہیں جن کے بغیر کسی بھی معیشت کا پہیہ نہیں چل سکتا۔
انتہاپسندی دراصل صرف ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور فکری بحران ہے۔ جب مذہب کو سیاسی طاقت کے حصول، ذاتی مفادات یا گروہی برتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے میں سرایت کر جاتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ فتوے، اور مخالف عقائد کے ماننے والوں کو واجب القتل یا گمراہ قرار دینے کا رجحان ایک ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں تشدد کو جواز ملتا ہے۔ ریاست اگر اس فضا کو بروقت اور مستقل بنیادوں پر ختم نہ کرے تو پھر محض وقتی بیانات یا محدود کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں بن سکتیں۔
اسی پس منظر میں حکومت کی جانب سے رواں سال پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کی قومی پالیسی کا اعلان کیا گیا، جو نظرثانی شدہ قومی لائحہ عمل کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کاغذ پر یہ پالیسی ایک جامع اور مفصل دستاویز دکھائی دیتی ہے، جس میں تعلیم، مذہبی بیانیے، سماجی ہم آہنگی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور نفرت انگیزی کے سدباب جیسے نکات شامل ہیں۔ اگر اس پالیسی پر جزوی طور پر بھی عمل درآمد ہو جائے تو یہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں اچھی نیت سے بننے والی پالیسیوں کا انجام اکثر ادھورا نفاذ اور بالآخر فراموشی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاست نے مذہبی انتہاپسندی کے خلاف کسی اجتماعی کوشش کا اعلان کیا ہو۔ ماضی میں تمام مکاتب فکر کے علما کی متفقہ تائید سے ایک قومی پیغام بھی سامنے آیا تھا، جس کا مقصد یہی تھا کہ تشدد اور فرقہ واریت کو غیر اسلامی قرار دیا جائے اور مذہب کے نام پر خون بہانے کی مذمت کی جائے۔ اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں، خاص طور پر فوجی حکمران کے زمانے سے لے کر بعد کی حکومتوں تک، کئی پالیسی اقدامات کیے گئے۔ مگر مسئلہ یہ رہا کہ ریاست نے کبھی مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایک حکومت آئی، اس نے ایک بیانیہ اپنایا، اگلی حکومت نے سیاسی مصلحت یا دباؤ کے تحت اسی بیانیے کو کمزور کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انتہاپسند گروہوں کو پنپنے کا موقع ملا، وہ مضبوط ہوتے گئے، اور پھر جب ان کا رویہ ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت ہوا تو طاقت کے استعمال سے انہیں قابو کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ آدھا ادھورا اور ردعمل پر مبنی رویہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ ریاست کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کوئی انتہاپسند تنظیم بار بار ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی ہے، سڑکیں بند کرتی ہے، تشدد پر اکساؤ کرتی ہے، اور پھر طویل مذاکرات یا وقتی سمجھوتوں کے ذریعے بچ نکلتی ہے تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں۔ یہی تاثر معاشرے میں قانون شکنی کو فروغ دیتا ہے اور اعتدال پسند آوازوں کو کمزور کرتا ہے۔
انتہاپسندی کے خلاف حقیقی جدوجہد کا آغاز نفرت انگیز تقریر اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کے مکمل خاتمے سے ہونا چاہیے۔ کسی بھی مسلک یا مذہب کو نشانہ بنانے والی زبان، خواہ وہ منبر سے ہو، جلسے سے یا سوشل ذرائع ابلاغ سے، ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔ ریاست کو اس معاملے میں زیرو برداشت کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ جو لوگ فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دیتے ہیں، اس کی حمایت کرتے ہیں یا اسے جواز فراہم کرتے ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہوگا تو پھر انتہاپسندی کے خلاف کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہبی علما کا کردار اس پورے عمل میں کلیدی ہے۔ پاکستان ایک مذہبی معاشرہ ہے، جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد دین سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اگر علما نفرت کے بجائے برداشت، مکالمے اور اختلاف کے آداب کو فروغ دیں تو معاشرے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست خود واضح، مضبوط اور غیر مبہم موقف اپنائے۔ علما سے صرف اپیلیں کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں اس ریاستی فریم ورک کا حصہ بنانا ہوگا جو قانون، آئین اور انسانی جان کے احترام پر مبنی ہو۔
معاشی ترقی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے درمیان تعلق محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ جہاں عدم تحفظ، تشدد اور غیر یقینی ہو وہاں صنعت، تجارت اور روزگار پھل پھول نہیں سکتے۔ بار بار کے ہنگامے، جلاؤ گھیراؤ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرتے ہیں بلکہ مقامی کاروباری طبقہ بھی اپنا سرمایہ محفوظ راستوں کی تلاش میں بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کا براہ راست اثر روزگار کے مواقع، ریاستی آمدن اور مجموعی معاشی استحکام پر پڑتا ہے۔
ریاست اگر واقعی انتہاپسندی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ آدھے اقدامات، وقتی جوش اور سیاسی مصلحتوں پر مبنی فیصلے اس مسئلے کو مزید الجھاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک طویل المدتی، ہمہ جہت اور مستقل پالیسی اپنائی جائے، جس میں قانون کی بالادستی، تعلیمی اصلاحات، مذہبی بیانیے کی تطہیر اور سماجی انصاف کو یکجا کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست خود اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ نفرت اور تشدد کے کسی بھی مظہر کو برداشت نہیں کرے گی۔
جب تک ریاست نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی نہیں کرتی، جب تک مذہب کے نام پر تشدد کو مکمل طور پر غیر قانونی اور ناقابلِ قبول قرار نہیں دیا جاتا، اور جب تک پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد نہیں ہوتا، تب تک انتہاپسندی کا عفریت بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔ آج ایک بار پھر عزم کا اظہار کیا گیا ہے، بیانات دیے گئے ہیں، اور پالیسیاں موجود ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا اس بار ریاست یاد رکھے گی، یا پھر کچھ عرصے بعد یہ سب وعدے بھی ماضی کی طرح فراموشی کی نذر ہو جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں