معلم یا درندے

جگہ گھیرنے والوں کے نام

ٹرکوں کی شاعری اور جملے بازی بھی بڑی مزے کی ہوتی ہے۔ دوران سفر ایک بہت طویل ٹرالر پر پہ جملہ لکھا ہوا پڑھا’’گڈی والیا موج تے تیری اے، اساں تے بس جگہ ای گھیری ہے‘‘ملتان میں بھی ایک شخص نے دو مرتبہ بس جگہ ہی گھیری اور کیا کرایا کچھ بھی نہیں، آیا، پھر ٹرانسفر ہو گیا، دوبارہ پورا زور لگا کر آیا اور پھر ہلے جلے اور ہلائے جھلائے بغیر چلا گیا، مگر حرام ہے کہ ایک رتی برابر بھی اس شہر کو فائدہ دے کر گیا ہو۔ وہ شخص ہے سابق ڈپٹی کمشنر ملتان، وسیم حامد سندھو۔ ان کی موجودگی میں ملتان کی رجسٹری برانچ اور ان کی ناک کے عین نیچے ان کے زیر انتظام محکموں میں کرپشن کا طوفان مچا ہوا تھا۔ انہی کی تعیناتی کے دوران سیلاب زدگان کی حکومت کی طرف سے مالی امداد میں جو کرپشن ہوئی اور جس طرح جعلی سیلاب زدگان کو رجسٹرڈ کرکے انہیں 20 تا 25 فیصد دے کر 75 سے 80 فیصد ریونیو عملے کی طرف سے اپنی جیبوں میں ڈالا گیا، اس کی مسلسل نشان دہی بھی روزنامہ قوم سمیت بہت سے لوگوں نے سابق ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو کو ہر طریقے سے کی مگر ان کے کانوں پر جون تک نہیں رینگی اور رینگتی بھی کیوں کہ کہا یہ جاتا ہے کہ انہیں پنجاب کے سب سے بڑے آفیسر کی مکمل آشیر باد حاصل تھی۔ مذکورہ سب سے بڑے آفیسر جب ملتان میں اے ڈی سی جی تھے تو اکثر میرے دفتر تشریف لایا کرتے تھے اور کمال کے مثبت سوچ کے آدمی ان دنوں تو ضرور ہوا کرتے تھے اب چونکہ میرا ان سے رابطہ تقریبا ًختم ہے لہٰذا میں تازہ ترین صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ مسلسل اختیار اور اقتدار سوچ کے زاویوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ان دنوں سٹی مجسٹریٹ عارف ضیا ہوا کرتے تھے اور میں اپنے اخبار کی ٹیم کے ساتھ شہر میں مختلف شکایات پر مذکورہ اے ڈی سی جی اور سٹی مجسٹریٹ کے ہمراہ ریڈ پر جایا کرتا تھا اور بعد میں اس کارروائی کی مکمل کوریج اخبار میں شائع ہوتی تھی کیونکہ اس دور میں اخبارات ہی ایسے گھنائونے معاملات کو بے نقاب کرنے کا واحد ذریعہ ہوتے تھے۔ میری معلومات کو دیکھتے ہوئے ان دنوں مذکورہ صاحب مجھے استاد کا درجہ دیا کرتے تھے۔
بات ہو رہی تھی سابق ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو کی کہ ان کے ہوتے ہوئے رجسٹری برانچ اور سول ڈیفنس سمیت ان کے زیر انتظام محکموں میں کرپشن کے حوالے سے مصدقہ خبریں شائع ہوتیں مگر مجال ہے کہ وہ کوئی نوٹس لیتے یا توجہ دیتے ۔ چند روز قبل کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان نے سب رجسٹرار آفس باغ لانگے خان کا اچانک دورہ کیا تو جو کچھ روزنامہ قوم نے اپنے صفحات میں لکھا تھا، حرف بحرف درست ثابت ہوا۔ کرپشن جاری تھی اور سرکاری ریکارڈ پر پرائیویٹ افراد کا مکمل کنٹرول بلکہ قبضہ تھا۔ کمشنر ملتان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام غیر متعلقہ پرائیویٹ افراد کو سب رجسٹرار آفس سے نکال دیا ،کچھ گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور عرصے سے جاری رشوت کے کھلے عام حصول پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ کنٹرول کتنے دن چلتا ہے مگر امید ہے کہ صورتحال بہتر ہو گی کیونکہ راستے کی رکاوٹ جا چکی ہے اور رہا کمشنر ملتان کا معاملہ، وہ تو کمال کے متحرک آدمی ہیں اور ایک ایک ایشو پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ محدود اور کم وسائل کے باوجود انہوں نے نہ صرف ملتان شہر بھر میں بلکہ ملتان ڈویژن میں سالہا سال کے الجھے ہوئے بہت سے مسائل کو حل کیا ہے۔ وہ ملتان کے عوام میں اس قدر گھل مل چکے ہیں کہ ہر کوئی انہیں اپنا سمجھتا ہے اور یہی ایک ذمہ دار اور درد دل رکھنے والے آفیسر کی سب سے بڑی نشانی اور کامیابی ہوتی ہے۔ میں نے ذاتی طور پر ان میں جو بات نوٹ کی وہ بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ عزت کروانے کی بجائے عزت کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ میں کبھی ان کے دفتر نہیں گیا اور شاید ایک دو بار ہی ان سے ملاقات ہوئی مگر ان کا کام روزانہ ہی ان سے اچھی خاصی ملاقات کروا دیتا ہے۔ میں نے اپنی خبروں اور کالموں میں جن جن چیزوں کا بھی حوالہ دیا یا ذکر کیا مجھے بغیر کہے ان امور پر ایکشن ہوتا دکھائی دیا اور چند ہی دنوں میں فرق بھی نظر آیا۔ سیاسی کھینچا تانی کے اس مشکل ترین دور میں اس قسم کا رزلٹ دینا واقعی حیران کن اور قابل تعریف ہے۔
میں نے ملتان کچہری میں مسلسل جاری رہنے والی اہلمد اور ریڈر حضرات کی کرپشن کو ثبوتوں کے ساتھ نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ ان پر قابو پانے کی تجاویز بھی اخبار کے صفحات پر شائع کیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان نے اس پر انکوائری بھی کروائی اور میری معلومات کے مطابق اس انکوائری میں روزنامہ قوم کی طرف سے توجہ دلانے کے لیے اٹھائے گئے بعض الزامات درست بھی ثابت ہوئے بلکہ انکوائری رپورٹ بھی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کو بھجوا دی گئی مگر بعد ازاں اس انکوائری کا کیا ہوا، اس بارے میں کوئی بات میرے علم میں نہیں آسکی تاہم جن امور کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی ان میں تبدیلی یا کمی نہیں آ رہی اور سلسلہ محتاط انداز میں جاری ہے۔
میں نے مجسٹریسی نظام کا کنٹرول بھی دیکھا ہوا ہے اور ان دنوں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا بھی عینی شاہد ہوں۔ اخبارات کے دفاتر میں کوئی بھی شکایت آیا کرتی ،ہم فوری طور پر علاقہ مجسٹریٹ کو آگاہ کرتے اور 90 فیصد سے زائد معاملات میں ایکشن ہوتا بلکہ فوری ایکشن ہوتا۔ پھر دنیا کی اس سب سے بڑی سیاسی اور انتظامی تجربہ گاہ پاکستان میں مجسٹریسی نظام کا خاتمہ ہو گیا اور یہ اختیارات سول ججز حضرات کو مل گئے۔ انہی دنوں مجھے کسی نے اطلاع دی کہ وہاڑی روڈ پر ایک گودام میں کروڑوں روپے کی زرعی ادویات جو کہ زائد المیعاد اور خراب ہو چکی ہیں کے لیبل تبدیل کر کے ان کی ایکسپائری ڈیٹ بڑھائی جا رہی ہے اور اسے چھ ٹرکوں میں راتوں رات لاد کر رحیم یار خان اور بہاول نگر بھیج دیا جائے گا جہاں یہ کروڑوں روپے کی زرعی ادویات کاشتکاروں کو فروخت ہو جائیں گی آپ فوری طور پر کارروائی کا انتظام کروائیں۔ میں نے زراعت کے متعلقہ آفیسر کا پتہ کیا تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا جس پر میں نے رات 8 بجے اس وقت کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ملتان کے پی ٹی سی ایل نمبر پر فون کیا اور فون پر موجود شخص کو ساری بات بتائی۔ انہوں نے ساری بات سنی مگر مجھے پوچھنے کے باوجود یہ نہیں بتایا کہ وہ خود کون صاحب بول رہے ہیں۔ ایک گھنٹے بعد مجھے ان دنوں ملتان میں تعینات ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کا فون آیا اور انہوں نے مجھ سے استفسار کیا کہ آپ نے سیشن جج صاحب کو فون کیا تھا، کیا مسئلہ ہے میں نے دوبارہ ساری بات انہیں تفصیل سے بتائی تو وہ کہنے لگے کہ اس کے لیے تو آپ صبح عدالت میں حاضر ہو کر درخواست دیں پھر عدالت کسی کا تقرر کرے گی اور وہ پولیس کے ساتھ موقع پر جا کر کارروائی کرے گا۔ میں نے یہ کہتے ہوئے جج صاحب بہادر کا شکریہ ادا کیا کہ صبح تک تو وہ ٹرک رحیم یار خان اور بہاول نگر پہنچ چکے ہوں گے اور اس طرح مجسٹریسی نظام کی فوری کارروائی کا اختیار دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اپنے طویل صحافتی تجربے کی روشنی میں میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مجسٹریسی نظام کے خاتمے کا جتنا فائدہ جعل سازوں اور دو نمبر کاروبار کرنے والوں کو ہوا ہے شاید ہی کسی کو ہوا ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں