ملتان (وقائع نگار) ایمرسن یونیورسٹی میں تعینات غیر قانونی رجسٹرار کی مکاریاں، ایمرسن یونیورسٹی میں ہرا سمنٹ کیسز اور ہراساں کرنے والوں کو بچانے کے لیے فریبی حربوں کا استعمال کا شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق غیر قانونی رجسٹرار نے ہراسمنٹ کے کیسز کا رخ موڑنے اور اپنے دست راست کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فنکاریوں کی حد کر دی۔عرفان جاوید اسسٹنٹ پروفیسر کامرس جنہوں نے ڈاکٹر سمرہ ملک اور ڈاکٹر قرۃ العین ڈی ایس اے سمیت اور دو خواتین ارکان کی ویڈیوز کا ذکر کیا تھا اور جس کی گفتگو کی ریکارڈنگ ڈاکٹر سمرہ ملک اسسٹنٹ پروفیسر کامرس کے پاس ثبوت کے طور پر موجود ہے کے مطابق بھی ڈاکٹر عرفان جاوید نے ایسے الفاظ ادا کیے تھے ۔ان تمام کیسز کو دبانے اور ڈاکٹر سمرہ اور ان کے ساتھ باقی اساتذہ کو پریشرائز کرنے کے لیے ڈاکٹر عرفان جاوید سے مختلف قسم کی درخواست لکھوائی گئی۔یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق اس درخواست میں یونیورسٹی کے خزانہ دار، کنٹرولر،اسسٹنٹ پروفیسر ڈائریکٹر اکیڈمک آر او ، چیف سکیورٹی آفیسر اور وہ تمام اسسٹنٹ پروفیسر جنہوں نے ہراسمنٹ کے ان تمام معاملات کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ایسے واقعات یونیورسٹی میں نہیں ہونے چاہئیں۔ ان تمام کے خلاف رجسٹرار ڈاکٹر فاروق نے عرفان جاوید کو استعمال کرتے ہوئے درخواستیں لکھوائی تاکہ ہراسمنٹ کے اس معاملے کا رخ موڑا جا سکے اور وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ہراسمنٹ کمیٹی جو جانبدارانہ مظاہرہ کرتے ہوئے اور رجسٹرار کے اشاروں پر کارروائی نہیں کر رہی۔ اس کو مزید پریشرائز کر کے ہراسمنٹ کے اس کیس کو ختم کیا جا سکے۔یہاں یہ بات بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کی ہراسمنٹ کا ایک کیس جس میں ڈاکٹر سعید ناصر اسسٹنٹ پروفیسر انگلش ،ڈاکٹر فرمان لیکچرر اسلامیات اور ڈاکٹر ماریہ ڈوگر کے خلاف ایک انکوائری HED ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور میںہو رہی ہے۔جس میں سعید ناصر اور ڈاکٹر فرمان نے ڈاکٹر طیبہ کو ہراساں کیا تھا اور بعد میں رجسٹرار محمد فاروق نے ڈاکٹر طیبہ کو پریشرائز کرنے کے لیے مختلف قسم کی درخواستیں ڈاکٹر طیبہ کے خلاف لکھوائیں اور اس کے ساتھ کلاس کے طالب علموں کو بھی اس کے مخالف کر دیا۔ایمرسن یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایسے ہوا کہ رجسٹرار کھل کر اساتذہ کے گروپ بنانے میں اور دوسرے اساتذہ کو جو میرٹ اور قانون کی بات کرتے ہیں ان کو ڈی فیم کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو دبانے کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کر رہا ہے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ اس رجسٹرار کے خلاف پہلے بھی انکوائریز چلتی رہی ہیں اور ساتھ ساتھ اس میں جو زیادہ افسوس ناک واقعہ ہے کہ ڈاکٹر عرفان جاوید نے فروری 2024 کو ایمرسن یونیورسٹی کو جوائن کیا تھا اس کے بعد چھٹی لیے بغیر این او سی کے انہوںنے مختلف ممالک کے بیسیوں چکر لگائے ہیںجو کہ رجسٹرار اور ڈاکٹر عرفان کے گٹھ جوڑ کو ظاہر کہتے ہیں کہ کوئی شخص بغیر این او سی کے اور محکمانہ چھٹی لیے بغیر اتنے سارے باہر کے ممالک کے ٹرپس کیسے لگا سکتا ہے۔ قوم اس پر مزید تحقیق کر رہی ہے تاکہ ان تمام ٹرپس کا ریکارڈ اور اس کے ساتھ ساتھ ٹکٹ نمبرز اور تاریخ کو حاصل کیا جا سکے اور ان ممالک کی فہرست بھی حاصل کی جا سکے۔ معلوم ہوا ہے کہ رجسٹرار نے رانا سکندر حیات صوبائی وزیر ایجوکیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اور ایڈیشنل سیکرٹری یونیورسٹیز ڈاکٹر زاہدہ اور ڈپٹی سیکرٹری یونیورسٹیز کا استعمال کرتے ہوئے ان تمام منٹس پر سائن کروا لیے ہیںجن پر سینڈیکیٹ نے اپنے اجلاس میں آبزرویشن لگائی تھی اور جن پر رجسٹرار کے خلاف انکوائری کا حکم صادر ہوا تھا۔




