راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

یو ٹی ایف کھل کر ڈاکٹر بھابھہ کے حق میں آگئی، یونیورسٹی انکوائری بند، ڈاکٹر شازیہ عدم تحفظ کا شکار

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر و ہیڈ آف ڈیپا ر ٹمنٹ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کی حمایت اور نہتی لڑکی کے مقا بلے میں یو ٹی ایف کھل کر سامنے آ گئی اور یو ٹی ایف کے دباؤ پر ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ آبرو ریزی کیس کی انکوائری روک دی گئی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پولیس رپورٹ کے سامنے آنے کے بہانے یہ انکوائری رکوا دی گئی۔ قانون کے مطابق یونیورسٹی کی حدود میں ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کے اس مبینہ غیر اخلاقی فعل پر یونیورسٹی انتظامیہ انکوائری کمیٹی بنا کر 30 دن میں رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کرنے کی پابند ہے اور اس واقعے کے رپورٹ ہونے کے بعد سے اب تک 18 روز گزر چکے ہیں اور قانون کے مطابق 12 روز باقی ہیں لہٰذا اگر قواعد و ضوابط کو دیکھا جائے تو یہ انکوائری جاری رکھنا نہایت ضروری ہے جسے روک دیا گیا ہے اور دوسری طرف فرانزک رپورٹ کا کیا رزلٹ ہے پولیس چھپا رہی ہے کیونکہ مبینہ طور پر ملتان پولیس میں انتہائی اثر و رسوخ رکھنے والے ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کے قریبی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ رپورٹ رکوا دی گئی ہے جس سے ڈاکٹر شازیہ کی جان کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کی حدود میں رہنے کے باوجود عدم تحفظ کی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ افضل نے لاہور سے اپنی والدہ، بہن اور بھائی کو بلا لیا ہے کیونکہ حیران کن طور پر یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے ڈاکٹر شازیہ کو کسی بھی قسم کی کوئی سکیورٹی فراہم نہ کی گئی۔ ڈاکٹر شازیہ یونیورسٹی کی جانب سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی اور پولیس کے درمیان شٹل کاک بن کر رہ گئی ہیں۔ انکوائری کمیٹی کی سستی اور اب انتظامیہ کی جانب سے زبانی طور پر انکوائری کمیٹی کو انکوائری روکنے کا حکم دے کر ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس ضمن میں یو ٹی ایف کا صرف اپنے کرداروں کو ہر طرح سے کھل کھیلنے اور بعد ازاں ہر جائز و ناجائز کام کی کھلی حمایت اس اہم گروپ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ چونکہ یو ٹی ایف کے عہدے دار تھے تو یو ٹی ایف صرف ڈاکٹر احسان کے مبینہ مکروہ عمل کی حمایت کے لیے اپنی صلاحیتیں صرف کرے گی اور کیا ہر جائز و ناجائز کام میں اس کی حمایت و معاونت کرے گی؟ کیا ڈاکٹر شازیہ جیسی نہتی لڑکی کی یو ٹی ایف جیسے گروپ کے سامنے کوئی حیثیت نہ ہے؟ کیا یو ٹی ایف انسانیت کے معاملے میں بھی سیاست سے بالاتر ہو گی؟ قانونی طور پر بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی انکوائری کمیٹی کا انکوائری روکنا آبرو ریزی جیسے اہم واقعہ کی انکوائری کو کمزور نہیں کر دے گا؟۔

مزید پڑھیں : بی زیڈ یو: ڈاکٹر بھابھہ کے دوست کی انجینئرنگ ڈگریوں کی کھچڑی، اسلامیات، بزنس کے لیکچر

شیئر کریں

:مزید خبریں