راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

لوکل فارما مافیا، ڈرگ ریگولیٹری ملی بھگت، درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے رخصت

ملتان(قوم میڈیکل انفارمیشن سیل)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اور پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کی ملی بھگت سے ملٹی نیشنل کمپنیاں ادویات کی مناسب قیمت نہ ملنے اور سرکاری اداروں کے روایتی عدم تعاون کی وجہ سے ملک چھوڑ کر واپس جا رہی ہیں جس کی وجہ سے نیشنل کمپنیاں کھل کر من مانیاں کر رہی ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان سے درجن سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا بزنس سمیٹ چکی ہیں جبکہ’’ ایبٹ‘‘ اور ’’جی ایس کے ‘‘سمیت بہت ہی کم کمپنیاں اپنی پراڈکٹس پاکستان میں تیار اور فروخت کر رہی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے عدم تعاون کی وجہ سے حال ہی میں کراچی کی ایک پارٹی کو ایک ملٹی نیشنل کمپنی جو کہ ریسرچ پراڈکٹ تیار کرتی تھی، آٹھ نئی ادویات کی رجسٹریشن کا عمل ڈھائی سال تک بغیر وجہ بتائے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی وجہ سے رکا رہا اور اس کمپنی کو مذکورہ ادویات تیار اور فروخت کرنے کی اجازت ہی نہ مل سکی۔ آخر کار پاکستانی سرخ فیتہ جو کہ صرف خدمت کی قینچی سے ہی کٹ سکتا ہے مگر اس طرح کی قینچی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے ان کی ادویات کی رجسٹریشن ریسرچ پراڈکٹ ہونے کے باوجود رکی رہتی ہے۔ اس صورتحال سے تنگ آکر مذکورہ ملٹی نیشنل کمپنی کہ جس کی8 ادویات ڈھائی سال گزرنے کے باوجود ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری حاصل نہ کر سکی ہیں، نے اپنی فیکٹری کراچی کے ایک میمن برادری کے تاجر کو فروخت کر کے پاکستان سے اپنا کاروبار ختم کر لیا تو مذکورہ نئے مالک کووہی ادویات جو ڈھائی سال سے منظوری کے مراحل میں رکی پڑی تھیں ،کے اجازت نامے ان کے کراچی پہنچنے سے قبل ان کے دفتر وصول ہو چکے تھے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ریسرچ پراڈکٹس کو وہ قیمتیں بھی نہیں دیتی جو انہی فارمولے کے تحت مقامی کمپنیاں تیار کر کے وصول کر رہی ہیں اور ان کی تفصیلات بتدریج قارئین کو فراہم کی جاتی رہیں گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں