راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

علیمہ خان کا مؤقف: عمران خان کا پیغام پہنچانے پر اگر میں ملزم ہوں تو پھر کل پوری قوم ملزم بنے گی

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اگر آج عمران خان کا پیغام پہنچانے پر میں ملزم ہوں تو کل پوری قوم کو بھی ملزم قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج ملک میں ایسی فضا بن چکی ہے کہ جس کی بات پسند نہ آئے، اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سے گفتگو کو دہشت گردی قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے، یہی آئینی اور قانونی نکتہ ہم نے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

علیمہ خان نے واضح کیا کہ ان پر الزام ہنگامہ آرائی کا نہیں بلکہ عمران خان کا پیغام پہنچانے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صرف 10 سے 15 صحافیوں اور یوٹیوبرز کو پیغام دیا، اور میڈیا نے وہی پیغام پوری قوم تک پہنچایا۔ اگر اس بنیاد پر انہیں ملزم کہا جا رہا ہے تو پھر میڈیا کو بھی شریکِ ملزم بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح عمران خان اور ان کے مقدمات ہیں۔ ہم ہر پیشی پر صرف ملاقات اور ٹرائل کے لیے جاتے ہیں، لیکن وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جاتے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ یہ ظلم اور خوف کی فضا ہم عدالتوں میں چیلنج کر کے ختم کروائیں گے، کیونکہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزادیِ اظہار کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے خلاف 60 سے 70 مقدمات درج ہیں، کبھی پنڈی سے اور کبھی اسلام آباد سے وارنٹ نکالے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دباؤ یا دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں، ظلم کی یہ فضا ختم کرنی ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں