راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

ایم فل، پی ایچ ڈی، طلبہ سے پرتعیش کھانے کا رواج عام، لنچ تھیسز منظوری کا لازمی جزو بن گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء و طالبات سے تھیسز کے ڈیفنس کے موقع پر سپروائزر کی جانب سے دباؤ دیے جانے کے بعد طلباء و طالبات کی جانب سے اوپن ڈیفنس کے موقع پر تمام شرکاء کو ریفریشمنٹ اور سپروائزر، ممتحن، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو کسی اچھے ہوٹل میں لنچ کھلانے کا رواج عام ہو گیا۔ تفصیل کے مطابق ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اسکالرز کو اپنے فائنل ڈیفنس امتحانات کے موقع پر پرتعیش کھانے یا چائے کا اہتمام کرنے کے لیے مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ایم فل/ ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلباء و طالبات پر بے روزگار ہونے کے باوجود سپروائزرز کی جانب سے اتنا بوجھ ڈالا جانا نہایت ہی افسوس ناک امر ہے۔ زیادہ تر سپر وائزر حضرات دوسری یونیورسٹیوں سے اپنے دوست اساتذہ کو بیرونی ممتحن کے طور پر تعینات کرواتے ہیں اور پھر ڈیفنس ڈے پر ان کی آمد کے موقع پر کھانا اور ریفریشمنٹ طلباء و طالبات کے ذمہ ہوتا ہے جس سے سپر وائزر کو 3 فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک تو اپنے بیرونی ممتحن دوست کے لیے پر تعیش کھانے کا اہتمام طلباء و طالبات کی جانب سے ہو جاتا ہے۔ دوسرا بیرونی ممتحن کی جانب سے اس طالبعلم کے تھیسز پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک تاریخ میں شاید ہی کسی بیرونی ممتحن کی جانب سے تھیسز منظور نہ کیا گیا ہو۔ تیسرا اور آخری فائدہ بیرونی ممتحن کی جانب سے سپروائزر کو اپنی یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے بیرونی ممتحن تعینات کروانے کے بدلے کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ یہ ریفریشمنٹ اور پر تعیش کھانے کا اہتمام اس قدر رواج پا گیا ہے کہ تقریباً اس پر تعیش کھانے کو بھی تھیسز کا لازمی جزو مقرر کر لیا گیا ہے۔ شاید ہی کسی با ضمیر سپروائزر کی جانب سے اس پر تعیش کھانے کا بل اپنی جیب سے دیا جاتا ہو لیکن زیادہ تر یہ بوجھ طلباء و طالبات ہی کے ذمے ڈالا جاتا ہے۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی بہت سی شکایات میں ایسی متعدد شکایات پائی گئیں۔ چنانچہ طلباء و طالبات یونیورسٹیوں کے سربراہان سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے سختی سے اجتناب کریں اور ان کی حوصلہ شکنی کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں