لاہور،گگو منڈی (بیورورپورٹ، نامہ نگار) دربار باباحاجی شیرپرزنجیروں میں جکڑی فاترالعقل خاتون سے زیادتی کامعاملہ پنجاب اسمبلی پہنچ گیا۔رکن پنجاب اسمبلی بیرسٹرخالدنثارڈوگرنے معاملہ ہائوس میں اٹھا دیا۔ایم پی اے پی پی 231بیرسٹر خالد نثار ڈوگر نے پنجاب اسمبلی میں خطاب کرتےہوئےکہاکہ جناب سپیکر ہمارے علاقہ میں حاجی شیخ دربارہے۔ جو لوگ پاگل ہو جاتے ہیں وہاں پر ایک روایت ہےکہ لوگ ان کو وہاں پر آکر باندھ دیتے ہیںیہ کافی سالوں سے چل رہا ہے۔ہوا یہ ہے کہ ایک شوہر نے اپنی بیگم کو جو کہ کوئی زیادہ بڑی عمرکی نہیں تھی ۔ اس کو وہاں پر آکر باندھ دیا اور کچھ لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی ۔میری گزارش ہے کہ پولیس نے ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا ۔اس ہائوس کو اس معاملے پررپورٹ دی جائے اور خاص طور پر عورتوں کو وہاں پر اس طرح باندھنےپر پابندی لگائی جائے اورملزمان کو سخت سزا دی جائے۔دوسری جانب ساہوکا کے نواحی علاقے دیوان صاحب میں نجی لنگرخانہ میں فاتر العقل لڑکی سے زیادتی کیس میں دونوں گرفتار ملزمان عطا محمد اور منیر احمد کو مقامی عدالت پیش کیا گیا جہاں سے منیر وسیر جیل روانہ جبکہ عطا محمد چاولیانہ کا ریمانڈ دے دیا گیا مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہ ہو سکا اس کیس میں مزید انکشافات میں لنگرخانہ کےمالک خادم حسین نے متاثرہ ذہنی مریضہ کے والد کو بچی کو کھانا اور رہائش کے بدلے اپنے جانوروں کی دیکھ بھال اور چارہ ڈالنے کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی ۔ذرائع کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں ماضی میں بھی ذہنی مریضہ کیساتھ درندگی ھو چکی ھے تاحال لنگر خانہ کےمالک کو شامل تفتیش نھیں کیا گیا جبکہ کیمرے بھی جان بوجھ کر بند کرنے کا انکشاف ھوا ھے لنگرخانہ میں اس سے قبل لڑائی جھگڑوں کے واقعات بھی رونما ھو چکے ھیں ۔ملزمان صلح کیلئے دبائوڈال رہے ہیں۔متاثرہ مریضہ کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران پولیس پر الزام عائد کیا کہ سفید کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر زیادتی کی بجائے کوشش کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ لنگرخانہ کے مالک کو بھی نامزد نہی کیا گیا خاتون کا کہنا ھے کہ اسے کیس واپس لینے کیلئے بااثر افراد دھمکیاں اور دباو ڈال رھے ھیں خاتون نے وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف سے انصاف فراھم کرنے کا مطالبہ کیا ھے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لنگرخانہ کے مالک خادم حسین اور علی انداز نے بیسیوں لوگوں کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو من گھڑت قصے کہانیاں سنا کر ہزاروں من گندم چاول جانور اور منتوں کے نام پر سونا چاندی اکٹھا کرنا معمول بنا رکھا ہے جس سے سادہ لوح لوگوں کے ساتھ محکمہ اوقاف کو ہر سال کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہاہے۔ زائرین اور مقامی لوگوں نے اس لنگر خانے کو سیل کرکے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔







