لیہ میں ہولناک حادثہ، بس ٹریکٹر ٹرالی تصادم، ڈرائیور اور کنڈیکٹر جاں بحق، متعدد مسافر زخمی-لیہ میں ہولناک حادثہ، بس ٹریکٹر ٹرالی تصادم، ڈرائیور اور کنڈیکٹر جاں بحق، متعدد مسافر زخمی-میٹرک پوزیشن ہولڈرز کا اعلان، ملتان میں لڑکیاں، بہاولپور، ڈیرہ میں لڑکے بازی لے گئے-میٹرک پوزیشن ہولڈرز کا اعلان، ملتان میں لڑکیاں، بہاولپور، ڈیرہ میں لڑکے بازی لے گئے-ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس، معطل اے ایس آئی چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے-ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس، معطل اے ایس آئی چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے-آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ: پاکستان کا شاندار آغاز، امریکا کو 3-0 سے شکست-آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ: پاکستان کا شاندار آغاز، امریکا کو 3-0 سے شکست-آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپئن شپ: پاکستان کا شاندار آغاز، امریکا کو 3-0 سے شکست-شادی کے بعد مردوں کو والدین پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، ندا یاسر کا مؤقف

تازہ ترین

کوٹ ادو حراستی ہلاکت کیس ڈی پی او نے ایف آئی اے کو بھیج دیا

کوٹ ادو (نامہ نگار)کوٹ ادو پولیس حراست میں عمران مانی کی ہلاکت کے کیس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوٹ ادو نے کیس ڈائریکٹر ایف آئی اے ملتان کو بھجوا دیاہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن راجن پور نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ایس آئی سعیدہ خالق سمیت اہلکاروں سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آج آر پی او ڈیرہ غازی خان متوفی کے گھر آئیں گے۔تفصیلات کے مطابق کوٹ ادو میں عمران مانی کیس کا معاملہ تاحال ٹریک پر نہیں آ سکا۔ انعم بشیر اغوا کیس میں عمران مانی سینتالیسواں ملزم تھا۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی افسر سعیدہ خالق نے انعم بشیر کیس میں جن 46 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا ان سے بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا۔ اس کیس میں تفتیشی سعیدہ خالق نے لاکھوں روپے بنائےاور بالآخر ایک شخص کی جان جانے کے بعد یہ سلسلہ جا کر رکا۔گزشتہ روز ایس پی انویسٹی گیشن راجن پور نے عمران مانی کیس میں ملوث ایس آئی سعیدہ خالق سمیت دیگر اہلکاروں کو بلا کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ڈی پی او کوٹ ادو منصور قمر کی جانب سے بھیجے گئے عمران مانی کیس میں لکھا گیا ہے کہ ہلاکت پولیس تھانے میں ہوئی ہے۔گزشتہ سات روز سے مختلف فورمز پر اس کیس پر بحث جاری ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کرپٹ ایس آئی سعیدہ خالق نے جن 46 افراد کو پیسے لے کر چھوڑا اور انعم بشیر کی تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بازیابی نہ کرا سکی، ان تمام افراد کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں