راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

پی پی نے سندھ کی ایسی حالت بنادی وہاں بھی لوگ چاہتے ہیں کاش مریم نواز جیسی وزیراعلی ہوتی، وزیر اطلاعات پنجاب

لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی ایسی ہے کہ وہاں کے عوام بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں مریم نواز جیسی وزیراعلیٰ ملے۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آپ پنجاب میں رہتے ہوئے پنجاب کے مسائل پر آواز کب اٹھائیں گے؟ آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب کے عوام کو گندم، آٹا اور روٹی نہ ملے؟ ایک طرف دعویٰ کرتے ہیں کہ گندم کا نقصان ہوا اور دوسری جانب یہی گندم باہر بھیجنے کی بات کرتے ہیں، یہ طرزِ عمل سیلابی سیاست ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہر سال سیلاب آتا ہے اور آپ ہر بار عوام کو اس آزمائش میں ڈبوتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں سیاست نہیں کرنا چاہتے مگر آپ کی پوری پریس کانفرنس محض سیاسی بیانات پر مبنی تھی۔ سوال یہ ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے آپ نے اب تک کیا کیا؟ سوائے سیاسی دعوؤں کے؟
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کا بہانہ پنجاب پر لگایا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں گندم خریداری ہی نہیں کی گئی۔ گندم نہ خریدنے پر کون سے قواعد کا اطلاق ہوگا؟
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو خود مریم نواز کی کارکردگی کو سراہ چکے ہیں، اسی لیے سندھ کے عوام بھی چاہتے ہیں کہ ان کے پاس مریم نواز جیسی وزیراعلیٰ ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بی آئی ایس پی ختم نہیں کرنا چاہتا لیکن سوال یہ ہے کہ اسے بار بار سیلابی سیاست کے لیے کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ اس پروگرام کا اپنا طریقہ کار ہے، اسے سیاسی ہتھیار بنانا درست نہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی حالات کو سمجھنے اور فیصلے کرنے کی اہل ہوتی تو آج پنجاب میں اس کی یہ صورتحال نہ ہوتی۔ گھروں میں بیٹھ کر یہ بتانا کہ کہاں سیلاب آنا تھا اور کہاں بند ٹوٹنا تھا، عملی سیاست نہیں، یہ فیصلے حالات اور زمینی حقائق کے مطابق حکومتیں کرتی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں