راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

پشاور: اعظم سواتی کا کہنا، عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دے کر وقار بلند کیا

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دینے کے فیصلے سے عدالت عظمیٰ کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی بنیاد پر کیا گیا، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج بھی عدالتیں حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے اپوزیشن لیڈر منتخب کیا گیا، اور کوشش کروں گا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو۔ شبلی فراز کی عزت کے لیے ان کی نشست خالی رکھی جائے گی، ان کی نااہلی کا فیصلہ درست نہیں، اور ہم کسی بھی قسم کا کمپرومائز قبول نہیں کریں گے۔
اعظم سواتی نے کہا کہ جس کو بھی سزا دی جائے، پی ٹی آئی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ علیمہ خان کے ساتھ جو واقعہ ہوا، اس کی کارروائی 13 اگست سے میرے گھر سے شروع ہوئی، جس سے عوام کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ علیمہ خان کے بیٹے کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ میں اعظم سواتی کے نام کو پی این آئی ایل سے نکالنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل علی عظیم آفریدی کے مطابق اعظم سواتی کا نام پہلے ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، عدالت نے نام نکالنے کے احکامات جاری کیے، لیکن عدالتی حکم کے باوجود انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔
عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں