پاکپتن: جلائی گئی لاش خاتون ٹیچرکی نکلی، کانسٹیبل ملوث، 2ساتھی گرفتار

پاکپتن،عارف والا (ڈسٹرکٹ رپورٹر،نمائندہ قوم) پاکپتن میں خاتون کے قتل کے افسوسناک واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا، جہاں ایک سکول ٹیچر کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کر کے لاش مسخ کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق ملزم نے خاتون ٹیچر کو کچھ دن قبل نشہ آور مشروب پلا کر جنسی طور پر ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔پولیس ذرائع کے مطابق محلہ حسن پورہ کی رہائشی سکول ٹیچر ریحانہ یاسمین کو اس کے کرایہ دار پولیس کانسٹیبل زاہدسکھیرا نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کی مدد سے اغوا کیا اور بعد ازاں قتل کر دیا۔ ملزمان لاش کو شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور رنگ شاہ کے علاقے میں لے گئے، جہاں شناخت چھپانے کے لیے لاش پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی اور کھیتوں میں پھینک دیا۔واقعے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ مقتولہ کی بیٹی نے اپنی والدہ ریحانہ یاسمین کی لاش کی شناخت جوتوں کے ذریعے کی۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی عمردراز خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم پولیس اہلکار مبینہ طور پر خاتون ریحانہ یاسمین کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھاجس کے باعث یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ ڈی پی او جاوید چدھڑ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کے دو ساتھیوں آصف اور ریحانہ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم کانسٹیبل زاہد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جبکہ شہریوں نے ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں