ٹی ایچ کیو لودھراں میں بد انتظامی، ایم ایس سمیت 7 افسران کیخلاف انکوائری شروع

ملتان (وقائع نگار ) محکمہ صحت و آبادی پنجاب نے ٹی ایچ کیو ہسپتال لودھراں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے معاملے پر ایکشن لیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبداللہ آصف خان سمیت 7 افسران و اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہےاور پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اظہرعباس نقوی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے ، جنہیں مذکورہ معاملہ کی چھان بین کرکے 60روز کے اندر رپورٹ پیش کرنی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (پریوینٹیو سروسز) کو ڈیپارٹمنٹل نمائندہ نامزد کیا گیا ہے،اس سلسلے میں باقاعدہ چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو اپنے تحریری جوابات 7 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر الزامات کو تسلیم شدہ تصور کیا جائے گا، جن افسران و اہلکاروں کو چارج شیٹ جاری کی گئی ہے، ان میں ڈاکٹر عبداللہ آصف خان، ڈاکٹر محمد ثناء اللہ، ڈاکٹر احمد فرحان غوری، ڈاکٹر عاصمہ شاہین، مس شگفتہ نورین، مس ثناء بتول اور راؤ محمد عمر شامل ہیں، محکمہ کے مطابق ابتدائی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ہسپتال میں ادویات اور سرجیکل آئٹمز کی خریداری کے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں، قواعد کی خلاف ورزیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال، ریکارڈ میں رد و بدل، اور مالی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی گئی، اسی بنیاد پر پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا،انکوائری میں مجموعی طور پر یہ الزامات زیر تحقیق آئیں گے کہ خریداری کے عمل میں شفافیت کو نظرانداز کیا گیا، ٹینڈرز میں مبینہ ہیرا پھیری کی گئی، بغیر قواعد کے فیصلے کئے گئے، متعلقہ کمیٹیوں نے ذمہ داریاں درست طریقے سے ادا نہیں کیں، اور بعض معاملات میں جعلی کارروائی ظاہر کر کے سرکاری ریکارڈ تیار کیا گیا، مزید یہ کہ شکایات کے ازالے کے لئے مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا اور بعض اہلکاروں نے حقائق کی تصدیق کیے بغیر دستاویزات پر دستخط کئے۔واضح رہے ڈاکٹر عبداللہ آصف خان ملتان میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بھی تعینات رہے ہیں ۔جنہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران خوب مال بٹورا تھا ۔انکے بھائی اجکل محکمہ صحت ملتان میں ڈی ایچ او ڈاکٹر تیمور خان ہیں ۔جن کی کہانیوں کی ایک لمبی فہرست ہےجس کو ادارہ بعد از تحقیق شائع کرے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں