تازہ ترین

واسا ملتان 46 کڑور سکینڈل، خفیہ ہاتھ متحرک، انکوئری افسر کی اچانک نئی تعیناتی معاملہ ٹھپ

ملتان (قوم انویسٹی گیشن سیل) واسا ملتان میں مبینہ طور پر اربابِ اختیار کی سرپرستی میں ہونے والے ایک بڑے مالیاتی سکینڈل نے سرکاری احتسابی نظام، بیوروکریسی کے اثر و رسوخ اور کرپشن کے خلاف دعوئوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ تفصیل کے مطابق واسا ملتان میں ایک ترقیاتی منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا جس کے بعد اس منصوبے کی مد میں تقریباً 46 کروڑ روپے کی بلنگ تیار کرکے ادائیگی کے لیے بھجوائی گئی۔ مذکورہ فائل جب واسا کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے پاس پہنچی تو انہوں نے معمول کی کارروائی کے بجائے تفصیلی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسر نے نہ صرف ریکارڈ کا جائزہ لیا بلکہ موقع پر جا کر کام کا معائنہ بھی کنسلٹنٹ سے کروایا ۔ ابتدائی جانچ اور موقع کے معائنے میں حیران کن طور پر یہ انکشاف سامنے آیا کہ جس منصوبے کے لیے 46 کروڑ روپے کا بل تیار کیا گیا تھا اس پر زمینی حقائق کے مطابق محض تقریباً پانچ کروڑ روپے کا کام ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس سنگین فرق پر متعلقہ افسر نے فائل پر اعتراض عائد کرتے ہوئے اسے واپس بھجوا دیا اور یوں مبینہ طور پر 41 کروڑ روپے کی بے ضابطگی یا کرپشن کا معاملہ سامنے آ گیا۔ یہ معاملہ ابھی زیرِ غور ہی تھا کہ روزنامہ قوم نے اس مبینہ سکینڈل کو منظر عام پر لا کر متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی۔ خبر شائع ہونے کے بعد پنجاب حکومت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب فواد ہاشم ربانی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے رانا محمد سلیم کو انکوائری افسر مقرر کر دیا۔ اس اقدام کو ابتدا میں شفاف احتساب کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا اور توقع کی جا رہی تھی کہ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز سے متعلق اس حساس معاملے کے حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھنے لگیں، ویسے ویسے بااثر حلقے متحرک ہو گئے۔ بیوروکریسی کے طاقتور عناصر اور مبینہ مفادات کے جال نے اس انکوائری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نتیجتاً وہ تحقیقات جن سے بڑے نام بے نقاب ہونے کی امید تھی، خاموشی کی نذر ہوتی دکھائی دینے لگی۔ صورتحال اس وقت مزید سوالیہ بن گئی جب گزشتہ روز چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے رانا محمد سلیم کو ممبر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب تعینات کر دیا گیا۔ جس افسر کے پاس 41 کروڑ روپے کے مبینہ مالیاتی سکینڈل کی تحقیقات تھیں، ان کی نئی تعیناتی کے بعد انکوائری عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ گئی ہے اور معاملہ ایک بار پھر فائلوں کے ڈھیر تلے دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر واقعی 46 کروڑ روپے کی بلنگ کے مقابلے میں صرف پانچ کروڑ روپے کا کام ہوا تھا تو باقی رقم کی بندر بانٹ کس کس کو ہونی تھیں ؟ تحقیقات سوموار 22 جون کو شروع ہوئیں اور اسی روز تمام متعلقہ افسران کو طلب کر کے ان کے بیانات ریکارڈ ہوئے اور ریکارڈ قبضے میں لیا گیا اور حیران کن طور پر اسی شام کو رانا سلیم انکوائری افسر کو ٹرانسفر کروا دیا گیا۔ سب سے اہم سوال یہ کہ کیا عوامی خزانے کے کروڑوں روپے سے متعلق یہ معاملہ بھی ماضی کے متعدد سکینڈلز کی طرح خاموشی سے دفن کر دیا جائے گا؟ اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ احتساب صرف دعوئوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر بھی نظر آئے۔ یاد رہے کہ رانا سلیم نے پہلے بھی ایک انکوائری میں واسا کے تین سابق افسران کو اڑھائی ارب روپے کی کرپشن میں چارج شیٹ کیا تھا۔ اسلئے واسا افسران ان سے خائف تھے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں