انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-نشتر ٹو : میڈیکل گلوز خریداری میں کروڑوں روپے سے’’ہاتھ صاف‘‘ ،افسروں کوکلین چٹ-نشتر ٹو : میڈیکل گلوز خریداری میں کروڑوں روپے سے’’ہاتھ صاف‘‘ ،افسروں کوکلین چٹ-دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا-دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا

تازہ ترین

منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کی مبینہ آڈیو لیک، کراچی بھر میں نیٹ ورک چلانے کا دعویٰ

کراچی: منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آگئی ہے جس میں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتی سنائی دے رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والی آڈیو میں مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کہتی ہے کہ کئی سالوں سے مختلف ادارے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں لیکن اسے گرفتار نہیں کر سکے۔ آڈیو میں وہ طنزیہ انداز میں کہتی ہے کہ اگر لوگ اس کی طرح سوچنا شروع کر دیں تو وہ بھی “برانڈ” بن سکتے ہیں۔
مبینہ آڈیو میں ملزمہ یہ دعویٰ بھی کرتی سنائی دیتی ہے کہ اس کا نیٹ ورک پورے کراچی میں سرگرم ہے اور شہر بھر میں اس کا کام پھیلا ہوا ہے۔ وہ چیلنجنگ انداز میں کہتی ہے کہ اگر کوئی اسے پکڑ سکتا ہے تو پکڑ کر دکھائے۔
یاد رہے کہ گارڈن پولیس نے حالیہ کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے پستول، بھاری مالیت کی کوکین، مختلف کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئی تھیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ دس مختلف مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھی جبکہ وہ شہر میں منشیات کی خرید و فروخت اور سپلائی کے منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔
تحقیقات کے مطابق ملزمہ آن لائن آرڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی اور اس مقصد کیلئے مخصوص رائیڈرز کے ساتھ ساتھ خواتین رائیڈرز کو بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں