انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-نشتر ٹو : میڈیکل گلوز خریداری میں کروڑوں روپے سے’’ہاتھ صاف‘‘ ،افسروں کوکلین چٹ-نشتر ٹو : میڈیکل گلوز خریداری میں کروڑوں روپے سے’’ہاتھ صاف‘‘ ،افسروں کوکلین چٹ-دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا-دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا

تازہ ترین

بہاولپور: زیادتی کیس میں بحال تھانیدار کے وکلا پر مقدمے، پولیس اور بار آمنے سامنے

بہاولپور (کرائم سیل)اپنی پہلی ایس ایچ او شپ کے دوران معصوم طالبہ کے ساتھ زیادتی کے ملزم کی سہولت کاری کرنے کے الزامات انکوائری میں ثابت ہونے کے بعد برخاست ہونے والے سب انسپکٹر سہیل قاسم نے بحالی کے فوراً بعد افسران کو چکمہ دے کر صدر یزمان میں پوسٹنگ حاصل کی۔ زمین کے تنازعے پر افسران کے احکامات کے باوجوداس نے بغیر انکوائری مکمل کیے تین وکلا پر مقدمات درج کر دیئےجس پر پنجاب بار میں مذمتی قرارداد اور یزمان بار کی ہڑتال بھی بے سود رہی۔ وکلاکی عبوری ضمانتیں، ایس ایچ او صدر یزمان پر متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق محسن عباس ایڈوکیٹ نے بتایا کہ شہباز اسلم ایڈوکیٹ کا اپنے کزنوں کے ساتھ چک نمبر 46 ڈی این بی علاقہ تھانہ صدر زمین کا تنازعہ ہے، ہم دونوں فریقین آپس میں عزیز ہیں۔ زمین شہباز اسلم کے نام ہے اور کھاتا بھی تقسیم ہو چکا ہے۔ یکم اور دو مئی کی رات تقریباً ڈھائی بجے فرنٹ کی جگہ پر قبضے کے سلسلے میں تنازعہ ہوا۔ شہباز ایڈووکیٹ نے ون فائیو پر کال کی، جس کے بعد دونوں پارٹیوں کا تھانے میں اکٹھ ہوا۔ ایس ایچ او نے کہا کہ میں دونوں پارٹیوں کے خلاف انسدادی کارروائی کرتا ہوں جس کے بعد سیاسی دباؤ پر ہمارے اوپر مقدمہ درج کر دیا گیا حالانکہ دو تین روز تھانے میں پنچایتیں ہوتی رہیں،ہمارا موقف یہ تھا کہ ہم تینوں وکلا موقع پر نہیں تھے جس پر طے ہوا کہ علاقے کے معززین سے حلف لیا جائے یا دے دیا جائے۔اس یقین دہانی کے باوجود مقدمہ درج کرلیا گیا ۔محسن عباس ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ مورخہ پانچ مئی کو میں نے ڈی پی او بہاولپور کو درخواست دی، جس کا ٹوکن نمبر 44 ہے۔ ڈی پی او صاحب کے نہ ہونے کی وجہ سے عبدالرؤف ڈی ایس پی لیگل نے میری درخواست ایس ایچ او صدر کو دی اور انہیں ہدایت کی کہ وکلا پر مقدمہ درج کرنے سے پہلے ان کی موقع پر موجودگی کی تحقیقات کریںمگر ایس ایچ او نے دوسری پارٹی کو سپورٹ کرتے ہوئے کسی قسم کی تحقیقات کیے بغیر ہی اگلے روز تین وکلا سمیت نو افراد پر نامزد اور 10 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبر 280/ 26 درج کر لیا، جس میں شہباز اسلم ولد محمد اسلم ایڈوکیٹ، محسن عباس ایڈوکیٹ، اور اکبر علی ایڈوکیٹ کے نام شامل ہیں۔جس پر مورخہ سات مئی کو یزمان صدر بار کی کال پر مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور اٹھ مئی کو پنجاب بار کونسل نے وکلا پر مقدمہ درج کرنے پر ایس ایچ او صدر یزمان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی مگر وکلا کے کالےکوٹوں کی طاقت پولیس کی وردی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے اور تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود ابھی تک وکلا کے نام مقدمے سے خارج نہیں ہوئے۔ دیگر ملزمان کی طرح تینوں وکلا نے بھی اپنی عبوری ضمانتیں کروا لی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مقدمہ درج ہونے سے پہلے شہباز اسلم نے بھی ڈی پی او بہاولپور کو ایک درخواست دی تھی مگر ایس ایچ او صدر یزمان نے اس پر کارروائی کرنے کی بجائے وکلا پر مقدمہ درج کر دیا اور ہمیشہ کی طرح پولیس سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لیے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے مقدمہ درج ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں