ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل رپورٹ) ملتان کے بعد اب ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بھی افغانیوں کو بھاری رقوم کے عوض پاکستانی شہریت فروخت کرنے کا انکشاف ، ڈیرہ غازی خان سٹی، جام پور، راجن پور اور روجھان میں بڑے پیمانے پر لاکھوں روپے لے افغانیوں کو کر برتھ اور میرج سرٹیفکیٹ جاری کیے جا رہے ہیں، یہ عمل نہ صرف قانونی طور پر قابلِ مواخذہ ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے،ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پٹھان ہمارے پاس بڑی سفارشیں لے کر آتے ہیں اور ان کے پاس مقامی رشتہ داروں کے شناختی کارڈ بھی ہوتے ہیں اور ہم ان کے سرٹیفکیٹ جاری کر دیتے ہیں یہ اعتراف انتہائی افسوس ناک ہے کہ سرکاری عملہ سفارشوں کے آگے قانون کو نظرانداز کر رہا ہےجبکہ 1990ء کے بعد لی گئی جائیداد فرضی تصور ہوگی او ر اگر ان کے والدین کے شناختی کارڈ اگر 1990ء سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں تو ایسے پٹھان مقامی ہیں باقی تمام عیسیٰ خيل اور موسیٰ ـ خیل سے تعلق رکھنے والے خالص افغانی ہیں، دوسری طرف ضلع کونسل راجن پور کے افسر عامر ماڑھا نے موقف اختیار کیا کہ اگر کسی نے غیر قانونی طور پر کسی افغانی کو پاکستانی شہریت دی ہے تو سب سے پہلے میں اس کا احتساب کروں گا، اور کرپشن کی سزا اسے مل کر رہے گی۔ تاہم یہ بیان اس وقت تک خالی اعلان ہے جب تک عملی اقدامات سامنے نہ آئیں،تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ملتان میں ایک بڑا گروہ روزنامہ قوم کی خبر پر بے نقاب ہوا، جس میں سیکرٹری اور اس کا عملہ ایف آئی اے ملتان کی حراست میں ہے۔ ذرائع کے مطابق ملتان کے لیے افغانیوں کے دستاویزات ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے بھی بنوائے جاتے رہے ہیں۔ اب یہ دونوں اضلاع کی میونسپل کمیٹیاں ایف آئی اے کے ریڈار پر ہیں اور جلد کارروائی متوقع ہے،راجن پور ضلع بھر میں غیر قانونی طور پر ریکارڈ میں تبدیلی کی جا رہی ہے حالانکہ کورٹ آرڈر کے بغیر رجسٹریشن ریکارڈ میں ردوبدل کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ لیکن افسوس کہ راجن پور میونسپل کمیٹیوں میں بغیر کسی عدالتی حکم کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری معمول بن چکی ہےجو قابلِ مواخذہ جرم ہے،مزید برآںراجن پور ضلع میں ایک یونین کونسل کا سیکرٹری خود پڑھنا لکھنا نہیں جانتا اور اس نے پرائیویٹ ملازمین فارم پُر کرنے اور ریکارڈ درج کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ عوام سے اس سلسلے میں بھاری معاوضہ بھی لیا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ ریڈی میڈ سرکاری ملازمت میں ان پڑھ شخص کو تعینات کیا گیا ہے جو سرکاری ریکارڈ جیسی حساس ذمہ داری نبھا رہا ہے،یہاں یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ راجن پور کے ایک بڑے تمن سےتعلق ہونے کی وجہ سے یہ سیکرٹری دھڑلے سے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کر رہا ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سماجی اور سیاسی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے قومی ریکارڈ پر نہ صرف پڑھے لکھے ملازمین کا تعین ہونا ضروری ہے بلکہ انہیں نافذالعمل رجسٹریشن ایکٹ اور متعلقہ قوانین کی مکمل معلومات بھی ہونی چاہیے۔ ایسے ان پڑھ ملازمین کو فوری طور پر برطرف کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ورنہ ریاستی دستاویزات کا یوں مذاق اٹھایا جانا کسی بھی باشعور معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔







