ملتان ( خصوصی رپورٹر) ویسٹ مینجمنٹ کمپنی/ ستھرا پنجاب ایجنسی کے صفائی ٹھیکے میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف، اینٹی کرپشن نے کمپنی سیکرٹری کبیر خان ، کنٹریکٹر ایس اے انٹرپرائزز کے مالک شہزاد جٹ سمیت 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، کمپنی سیکرٹری محمد کبیر خان سمیت 3 ملزمان گرفتار ، تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا، کنٹریکٹر فرار ہونے میں کامیاب تفصیل کے مطابق ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے صفائی کے ٹھیکے میں مبینہ بے ضابطگیوں، غیرحاضر سینیٹری ورکرز کی فرضی حاضری، جی پی ایس ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے معاملے پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔مقدمے میں ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سینئر منیجر ( مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم )ستھرا پنجاب ایجنسی محمد عمران، کمپنی سیکرٹری و چیف فنانشل آ فیسر ستھرا پنجاب ایجنسی محمد کبیر خان ، سینئر منیجر ( اے ایم او ) ستھرا پنجاب ایجنسی عامر مقبول ، فنانس منیجر ( ایم آئی ایس ) ستھرا پنجاب ایجنسی ساجد ریاض ، اسسٹنٹ منیجر ساجد علی ، اے ایم او ستھرا پنجاب ایجنسی ارسلان حمید خان اور ملتان میں صفائی ستھرائی کے ٹھیکیدار و ایس اے انٹر پرائزز کے مالک شہزاد جٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر نمبر 17/2026 کے مطابق مقدمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان کی انکوائری کی روشنی میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے صفائی کے معاہدے کے دوران سینیٹری ورکرز کی حاضری، فیلڈ میں موجودگی اور صفائی کے کام کی نگرانی کے حوالے سے ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیاں کی گئیں، انکوائری کے دوران 20 اگست 2026 کو رپورٹ نمبر 4663 سمیت متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ انکوائری میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صفائی کے منصوبے کے تحت مطلوبہ سینیٹری ورکرز کی حاضری اور کام کو یقینی بنانا متعلقہ ذمہ داران کی ذمہ داری تھی، تاہم مبینہ طور پر ایسے افراد کی حاضری بھی ریکارڈ میں ظاہر کی گئی جو موقع پر موجود نہیں تھے، ایف آئی آر متن کے مطابق ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی جانب سے ملتان میں صفائی ستھرائی کے امور ایس اے انٹرپرائزز جے وی کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں ،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی تمام امور کی نگرانی جانچ و ادائیگیوں کی تصدیق کی ذمہ دار ہے لیکن کنٹریکٹرز کو مطلوبہ کارکردگی کے بغیر ادائیگیاں کی گئیں،گاڑیوں ،مشینری، صفائی عملہ اور فیول کو بڑھا چڑھا کر ظاہر کیا گیا، حاضری ،روٹ مانیٹرنگ ویسٹ وزن اور کے پی آئی رپورٹس کی تصدیق کے بغیر کنٹریکٹرز کے بل منظور کئے گئے، کنٹریکٹرز کے زیر انتظام ملازمین اور ورکرز کو بہت کم تنخواہ پر رکھا گیا جبکہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ستھرا پنجاب ایجنسی افسران کی ملی بھگت سے سرکار سے مکمل تنخواہ وصول کر کے خورد برد کی گئی اس کے علاوہ سالڈ ویسٹ کی جگہ ریت مٹی اور کنکریٹ اٹھا کر اس کا وزن کر کے خورد برد کی گئی ۔مقدمے میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ صفائی کے ٹھیکے کے دوران جی پی ایس ریکارڈ کو بھی جانچا گیا، جس سے مبینہ طور پر متعدد ورکرز کی فیلڈ میں موجودگی اور ریکارڈ میں ظاہر کی گئی حاضری کے درمیان تضاد سامنے آیا۔ کمپنی کے معاہدے اور کے پی آئی کے تحت مطلوبہ کارکردگی پوری نہ ہونے کی صورت میں ٹھیکیدار پر جرمانے یعنی Penalties عائد کیے جانے تھے، تاہم مبینہ طور پر قواعد کے مطابق جرمانے عائد نہیں کیے گئے، مبینہ بے ضابطگیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کامالی نقصان پہنچا، جبکہ متعلقہ حکام اور کمپنی کے ذمہ داران نے معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے میں مبینہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ مقدمے میں PCA 5(2)47 اور PPC 409 سمیت متعلقہ قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق انکوائری کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔مقدمے کے اندراج کے بعد اینٹی کرپشن نے چھاپے مار کر کمپنی سیکرٹری و سی ایف او ستھرا پنجاب ایجنسی محمد کبیر خان ، منیجر ساجد اور اے ایم او ارسلان حمید کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا گیا جہاں سے انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر مزید تفتیش کے لیے اینٹی کرپشن کے حوالے کردیا گیا تفتیش کے بعد مزید گرفتاریوں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے ، واضح رہے کہ اینٹی کرپشن کے چھاپوں اور ایف آئی آر کے باعث ملتان میں دیگر دو کنٹریکٹرز کیساتھ جوائنٹ ونچر صفائی ستھرائی پر مامور کنٹریکٹر ایس اے انٹر پرائزز کے مالک شہزاد جٹ فرار ہوگئے ہیں ان کی گرفتاری کے لئے بھی اینٹی کرپشن حکام نے چھاپے مارنا شروع کردیے ہیں۔







