ملتان: ستھرا پنجاب پروگرام میں “کچراگردی”، سارمک کمپنی کو ایک کروڑ جرمانہ، بلیک لسٹ

ملتان( وقائع نگار)شہر میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے نظام میں ایک اور بڑا سکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے جس نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار کمپنی ’’سارمک‘‘ نے کوڑے کا وزن پورا دکھانے کے لیے مبینہ طور پر لینڈ فل سائٹ سے پرانا کچرا اٹھا کر ریکارڈ میں شامل کرنا شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق چار ماہ قبل ملتان کا ایم-2 زون سارمک کمپنی کے حوالے کیا گیا تھا۔تاہم کمپنی کی انتظامیہ نے کارکردگی بہتر دکھانے کے لیے لابر موڑ لینڈ فل سائٹ سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ٹن پرانا کچرا اٹھانا شروع کر دیاجو کئی سالوں سے وہاں ڈمپ تھا۔قواعد و ضوابط کے مطابق اس پرانے کچرے کو دوبارہ استعمال کرنا یا وزن میں شامل کرنا واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی ہے۔جب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو اس سنگین بے ضابطگی کا علم ہوا تو فوری طور پر انکوائری کا آغاز کیا گیا۔جو اب اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ابتدائی رپورٹ میں ٹھیکیدار کمپنی کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ایک کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔جبکہ کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی بھی تیزی سے جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں کمپنی کے جی ایم خبیب،منیجر آپریشن محسن اور ٹرانسپورٹ آفیسر مختیار بھٹہ،مشنیری منیجر ٹرانسپورٹ محمد طاہر کی مبینہ غفلت اور سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیںجس کے باعث ٹھیکیدار کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔شہری حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں