ملتان: افغانی سرٹیفکیٹس، اصل ذمہ دار محفوظ، غیر متعلقہ افراد پھنس گئے، کاروائی مشکوک

ملتان (وقائع نگار)افغانیوں کے برتھ و میرج سرٹیفکیٹس سکینڈل اصل ذمہ دار محفوظ، کمزور افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔افغانی شہریوں کے لیے مبینہ طور پر برتھ اور میرج سرٹیفکیٹس کے اجرا کے معاملے میں
سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کیس میں اصل ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کو بچاتے ہوئے کمزور اور غیر متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، جس نے شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف یونین کونسلوں میں تعینات بعض سیکرٹریز اور عملے پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانی شہریوں کے لیے دستاویزات تیار کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین سرٹیفکیٹس یونین کونسل عمر فاروق بازار کی سیکرٹری سمیرا بینجمن اور نائب قاصد عمران سردار نے جاری کیےجبکہ دو سرٹیفکیٹس یونین کونسل 7 آفیسر کالونی کے سیکرٹری سجاد حیدر کے ذریعے بنائے گئے۔اسی طرح ایک ایک سرٹیفکیٹ حسن پروانہ یونین کونسل کے سیکرٹری جعفر حسین اور یونین کونسل نمبر ایک کے سیکرٹری عبدالجبار باری کے ذریعے جاری کیے جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔تاہم حیران کن طور پر جب ایف آئی اے کی جانب سے اس معاملے پر ایف آئی آر درج کی گئی تو ان نامزد سرکاری اہلکاروں کو اس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس ایف آئی آر میں ایسے افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن کا متعلقہ یونین کونسلوں سے کوئی براہِ راست تعلق ظاہر نہیں ہوتا۔ایف آئی آر میں جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں جیمز گل، ایجنٹ نعیم، اسلم مسیح (نائب قاصد)، عمران اور ایک نجی شخص شامل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان افراد میں سے بعض کے متعلقہ یونین کونسلوں سے ایسے کسی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ آخر اصل ذمہ داروں کو کیوں بچایا جا رہا ہے کیا یہ کسی مبینہ ’’ڈیل‘‘کا نتیجہ ہے یا پھر تفتیشی عمل میں غفلت برتی گئی ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش میں شفافیت نہ ہو تو نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں تمام ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ اس نوعیت کی بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔شہری حلقوں نے بھی اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر واقعی اصل کرداروں کو بچایا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دباؤ بڑھا تو کیس کی دوبارہ چھان بین بھی کی جا سکتی ہے۔یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اعلیٰ سطح پر تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں