مافیا نے گندم “چگ لی”، 4 ہزار روپے من، حکومت کو تاخیر مہنگی پڑ گئی، 12 کمپنیوں کو نوازنے کیلئے چھاپے

ملتان (سٹاف رپورٹر) زرعی معیشت سے نابلد اور طاقتور ذخیرہ اندوزوں کی خواہشات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنے والی بیوروکریسی نے حالات کی نزاکت کا اندازہ کیے بغیر مارکیٹ میں گندم کی قیمت گرانے اور 12 سرکاری طور پر منظور شدہ ذخیرہ اندوزوں کی زیادہ سے زیادہ سہولت کاری کی خاطر گندم کی خریداری کا سلسلہ زیر التوا رکھا۔ فیصلہ کرنے والی قوتوں نے اس اہم ترین معاملے کو نظر انداز کیے رکھا کہ رواں سال میں گندم کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے اس لیے گندم کی پیداوار جو کہ اوسطاً تین کروڑ ٹن کے لگ بھگ ہوتی تھی رواں سال بمشکل دو کروڑ 65 لاکھ سے دو کروڑ 70 لاکھ ٹن تک ہو گی اور پھر فیصلہ کن قوتوں نے اس بات پر بھی توجہ نہ دی کہ محکمہ خوراک کا تو وجود ہی ختم ہو چکا ہے اس لیے اس کے پاس سرکاری گندم موجود نہیں جبکہ پاسکو کے پاس بھی ملکی اور غیر ملکی غیر معیاری گندم ملا کر زیادہ سے زیادہ 15 لاکھ ٹن گندم موجود ہے،
سرکاری سطح پرگندم خریداری نہ ہونے کے باعث جنوبی پنجاب کے پسماندہ اوردوردرازعلاقوں ہارون آباد،چشتیاں،کہروڑپکا اورعلی پورمیں یہاں تک صورتحال پہنچ گئی کہ کاشتکاروں نے مجبورہوکر3500روپے من سرکاری قیمت والی گندم 2900روپے من تک اونےپونے داموں مافیاکوبیچ دی۔
گندم کی سرکاری سطح پر خریداری کو تاخیری حربوں کا شکار رکھا جس کا بھرپور فائدہ پرائیویٹ ذخیرہ اندوزوں اور بلیکیوں نے اٹھایا جس سے بعض شہروں میں 3500 روپے من سرکاری قیمت والی گندم کاشت کاروں سے 3200 روپے من تک بھی خریدی گئی پھر اچانک اس کا ریٹ بڑھنا شروع ہوا اور دو دن قبل وہی گندم پانچ سو روپے فی من اضافے کے ساتھ چار ہزار روپے من تک پہنچی تو حکومت کے ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے اور فوری طور پر انتظامیہ حرکت میں آئی۔ گندم کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اور ساتھ ہی سرکاری سطح پر مقرر کیے گئے ذخیرہ اندوز جو باردانہ وصول کیے جانے کے باوجود بھی باردانہ جاری نہیں کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے گودام خالی رکھے ہوئے تھے، اچانک سرکاری سرپرستی سے میدان میں اتر آئے۔ صوبہ بھر میں کاشتکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ۔سڑکوں پر ناکہ بندی ہو گئی اور دیگر صوبوں میں فروخت کے لیے جانے والی گندم کو روکنے کا عمل شروع کر دیا گیا حالانکہ از خود حکومت پنجاب اور حکومت پنجاب کی مقرر کردہ 12 کمپنیاں بیوروکریسی کی معاونت سے گندم کی خریداری میں تاخیر کے لیے مختلف بہانے ڈھونڈ رہی تھیں۔ اس وقت پنجاب بھر کی انتظامیہ ان 12 کمپنیوں کی سہولت کاری کی خاطر کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔ کل تک جو کاشت کار باردانہ کے لیے دھکے کھا رہے تھے۔ آج ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ گندم کے شارٹ فال کی خبر پہلے ہی سے گردش کر رہی تھی اس لیے رواں سال عام صارفین نے بھی اپنے سالانہ استعمال کے لیے گندم کی اوپن مارکیٹ سے خریداری شروع کر رکھی ہے۔ حکومت کو اب احساس ہوا ہے کہ مارکیٹ میں گندم کی ابھی سے قلت ہے اور اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو شدید قسم کا غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور یہی وہی غذائی بحران ہے جس کا اشارہ عالمی ادارے گزشتہ کئی سال سے دے رہے تھے کہ پاکستان اور اس خطے میں 2026 اور 2027 کے بعد غذائی بحران اور پانی کی قلت کا خطرہ ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں