واشنگٹن،تہران (نیوزایجنسیاں) امریکی نشریاتی ادارےسی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران جتنے دور نظر آرہے ہیںاتنے ہیں نہیں، پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان پُرزور ڈپلومیسی چل رہی ہے۔سی این این کا کہنا ہے کہ پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان اب جو بات چل رہی ہے ، اس کا محور اس بات پر ہے کہ جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جایا جائے ۔ اس کے بعد آبنائے ہُرمُز کو کسی رکاوٹ یا کسی ٹول ٹیکس کے بغیر کھولا جائے ۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جب یہ سارے معاملات طے ہوجائیں تو اگلے مرحلے میں ایرانی ایٹمی پروگرام پر بات کی جائےگی ۔ سی این این کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایران کے ایٹمی صلاحیت سے دست بردار ہونے پر بدستور اصرار ہے، اگلے چند دن اہم ہیں ۔دوسری طرف امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور اس نے اپنی موجودہ صورتحال کے بارے میں پیغامات بھیجے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اطلاع دی ہے کہ وہ ’تباہی کی حالت‘ میں ہے اور اپنی قیادت سے متعلق صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ٹرمپ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکا فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو جلد کھلوانا چاہتا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اس وقت کمزور اور مشکل پوزیشن میں ہے جبکہ وہاں کے عوام بھی اپنی قیادت کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے ایران سے مذاکرات میں موجودہ صورتحال کی وجہ ایران کی جوہری صلاحیت کو قرار دے دیا۔امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکناہی امریکی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔مارکو روبیو نے ایران کی حالیہ پیشکش پر کہا کہ ایران وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،کسی بھی معاہدے میں یہ یقینی بنانا ہےکہ ایران جوہری ہتھیاربنانےکی طرف نہ بڑھ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور معاشی ایٹمی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے دنیا کی 20 سے 25 فیصد توانائی سپلائی یرغمال بنانے پرفخر کررہا ہے، تصورکریں ایسےافرادکے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو وہ پورے خطےکویرغمال بنا سکتےہیں۔ادھرایران کا کہنا ہے کہ امریکا اب دوسرے ممالک پر اپنا دھونس جمانے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک کا کہنا ہے کہ امریکا اب اس قابل نہیں ہے کہ وہ دوسرے ممالک کوڈکٹیٹ کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی طرف سے ایک نئی تجویز پر غور کر رہا ہے۔اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو بعد کی تاریخ تک ملتوی کرنا بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے جس پر تہران غور کر رہا ہے۔عباس عراقچی کا سینٹ پیٹرز برگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران سپر پاور کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، واشنگٹن اپنے مقاصد میں سے ایک بھی حاصل نہیں کر پایا ہے اسی لئے انہوں نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے اور ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے کریملن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے دکھا دیا ہے کہ ایران کے روس جیسے عظیم دوست اور اتحادی ہیں۔







