نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی دراصل صیہونی قوتوں کا منظم ایجنڈا ہے، جبکہ امریکہ اس صیہونی اثر و رسوخ میں الجھ کر اپنا عالمی کردار کمزور کر رہا ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عام شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ایسے میں پٹرولیم لیوی کو مجموعی طور پر 108 روپے تک پہنچانا عوام پر بھاری بوجھ اور معاشی دباؤ بڑھانے کے مترادف ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ میں گندم کے کاشتکاروں کو 3500 روپے فی من کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، جس کے باعث زرعی شعبہ تباہی کی جانب جا رہا ہے اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم آئین، جمہوریت اور عدلیہ کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔







