لاری اڈا ملتان میں قومی گیس لائن پر پلازے تعمیر، شہر کو بارود کے ڈھیر پر بٹھا دیا

ملتان (سپیشل رپورٹر) ملتان کے قلب میں واقع لاری اڈہ پر سوئی گیس روڈ ایک ایسا بارود خانہ بنتا جا رہا ہے جس کے نیچے خاموشی سے وہ مرکزی گیس پائپ لائن گزرتی ہے جو ملک کے بڑے حصوںاوچ شریف، ملتان، فیصل آباد، لاہور اور اسلام آبادکو گیس فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ حساس ترین لائن ہے جس کے اوپر معمولی بوجھ، کھدائی یا غیر قانونی تعمیر بھی سنگین تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ اسی خطرناک پٹی پر آج کروڑوں روپے مالیت کے کمرشل پلازے دھڑا دھڑ تعمیر ہو رہے ہیں، فروخت ہو رہے ہیں اور قانون کہیں نظر نہیں آ رہا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اصولی طور پر نہ صرف تعمیرات بلکہ گاڑی کھڑی کرنا بھی جرم سمجھا جاتا ہےکیونکہ زیرِ زمین گیس پائپ لائن کسی بھی وقت ہائی پریشر کے باعث خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔یہاں پر بڑے بڑے پلازے کھڑے ہو چکے ہیں، دکانیں بک رہی ہیںاور فی مرلہ قیمت ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔گویا خطرے کو کاروبار بنا دیا گیا ہو۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کس کی سرپرستی میں ہو رہا ہے؟ کیا ضلعی انتظامیہ، ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، پیرا فورس، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور سوئی گیس کے متعلقہ ادارے اس سنگین خلاف ورزی سے بے خبر ہیں؟ یا پھر یہ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے بلکہ مبینہ طور پر ان کی خاموش رضا مندی سے ہو رہا ہے؟ اگر یہ تعمیرات غیر قانونی ہیں تو اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اور اگر قانونی ہیں تو پھر کس قانون کے تحت ایک قومی نوعیت کی حساس گیس لائن کے اوپر کمرشل تعمیرات کی اجازت دی گئی؟ ماہرین کے مطابق اگر خدانخواستہ اس زیرِ زمین پائپ لائن میں دھماکا ہو جائے تو نہ صرف پورا پلازہ زمین بوس ہو سکتا ہے بلکہ اردگرد کا وسیع علاقہ بھی تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ یہ محض ایک بلڈنگ یا مارکیٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خریداروں کو بھی مکمل حقیقت سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر ایسی جائیداد خرید رہے ہیں جو کسی بھی وقت غیر قانونی قرار دے کر مسمار کی جا سکتی ہے یا کسی حادثے کی صورت میں موت کا کنواں ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کل کو حکومت کارروائی کرتی ہے تو نقصان عام شہری کا ہوگاجبکہ مبینہ طور پر منظوری دینے والے اہلکار بدستور اپنی کرسیوں پر براجمان رہیں گے۔پنجاب حکومت کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کلین اپ مشن پورے صوبے میں جاری ہونے کی بات کی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ یہی مشن ملتان پہنچ کر کیوں دم توڑ دیتا ہے؟ کیا یہاں قانون کی گرفت کمزور ہے یا اثر و رسوخ زیادہ طاقتور؟ ملتان کے متحرک کمشنر سے عوام کو امید ہے کہ جیسے ہی یہ معاملہ ان کے نوٹس میں آئے گا فوری اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ضلعی انتظامیہ اس بات کی شفاف تحقیقات کرے گی کہ سوئی گیس روڈ پر بننے والے ان پلازوں کی منظوری کس نے دی؟ کیا نقشے منظور تھے یا سب کچھ غیر قانونی طور پر ہوا؟ اور اگر کسی ادارے نے اجازت دی تو کیا اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی؟ یہ محض ایک خبر نہیں ایک ممکنہ سانحے کی پیشگی دستک ہے۔ اگر اب بھی آنکھیں نہ کھولی گئیں تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں