خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا

تازہ ترین

غزہ انسانی پیدا کردہ قحط کا شکار، بھوک سے 100 سے زائد فلسطینی شہید، اقوام متحدہ کا انتباہ

غزہ: اسرائیل کے مسلسل محاصرے اور شدید بمباری نے غزہ کو بدترین انسانی بحران کی جانب دھکیل دیا ہے، جہاں غذائی قلت اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کے باعث قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ، عالمی امدادی ادارے اور مقامی شہری اس صورتحال کو “انسانی پیدا کردہ قحط” قرار دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (انروا) کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں لوگ “چلتی پھرتی لاشوں” کی مانند ہیں اور صرف بھوک سے 100 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ختم کرے تاکہ خوراک، ادویات اور صاف پانی متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ خوراک مارکیٹوں میں دستیاب نہیں، اور اگر ہو بھی تو اس قدر مہنگی ہے کہ لوگ اپنی قیمتی اشیاء بیچ کر آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک ماں نے بتایا کہ اس کے بچے کچرے میں کھانے کی تلاش کرتے دیکھے گئے، جبکہ ایک امدادی کارکن نے کہا کہ “کھانا پکانا اور نہانا اب ایک عیش بن چکا ہے۔”
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں بھوک کی یہ صورتحال دنیا میں انسانی ہاتھوں سے پیدا ہونے والے بدترین قحط کی مثال بن چکی ہے۔
دیئرالبلح سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون ولا فتحی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعا کرتی ہیں کہ ان کا بچہ ان حالات میں دنیا میں نہ آئے، کیونکہ یہاں زندگی ایک “ناقابل تصور آفت” بن چکی ہے۔
صرف گزشتہ دو ماہ میں امدادی مراکز کے آس پاس اسرائیلی حملوں میں 1000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ فائرنگ اور بمباری کے باعث لوگ امداد کے مراکز تک بھی جانے سے ڈرتے ہیں۔
برطانوی فلاحی ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کے مطابق غزہ اب “قحط کے قریب” نہیں بلکہ مکمل طور پر “قحط زدہ” ہو چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں