ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں سرکاری خزانے کو وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم کی سربراہی میں سوچی سمجھی سازش کے تحت فیول کی مد میں غیر قانونی اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم ، خزانچی اور کنٹرولر کی جانب سے نقصان پہنچانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات کے لیے ماہانہ پٹرول کی فراخدلانہ مراعات سنڈیکیٹ سے منظور کروائی گئی ہیں، حالانکہ قانونی طور پر یہ اختیار سنڈیکیٹ کے دائرہ اختیار میں ضابطہ اخلاق کے مطابق آتا ہے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی سرکاری افسر جو سرکاری پٹرول استعمال کرے گا وہ کسی بھی صورت میں وہ فیول اپنی پرائیویٹ گاڑی میں نہیں ڈلوا سکتا۔ اس کے لیے سرکاری گاڑی کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اور قانون کے مطابق سرکاری گاڑی میں فیول کے استعمال کے لیے سرکاری گاڑی کا ایوریج سرٹیفکیٹ، سرکاری گاڑی کے کاغذات، اور سرکاری گاڑی کی لاگ بک ریگولر بنیادوں پر مکمل کرنا ضروری ہے۔ اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس معاملے کے ٹھوس دستاویزی شواہد گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور سے بھی حاصل ہوئے ہیں، جہاں اسی نوعیت کی مراعات کی منظوری کے واضح ریکارڈ موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ادارے میں سنڈیکیٹ اجلاس کے ذریعے مذکورہ اعلیٰ افسران کے لیے پٹرول کوٹہ اور اس کے مالی فوائد کی باضابطہ منظوری دی گئی، جو قانونی ماہرین کے نزدیک ایک سنگین بے ضابطگی ہے۔ دستاویزات کے مطابق پرو وائس چانسلر کے لیے 150 لیٹر جبکہ ڈین، رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات کے لیے 120 لیٹر ماہانہ پٹرول کی منظوری دی گئی ہے۔مگر وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم نے جان بوجھ کر یونیورسٹی ذرائع کو نقصان پہنچاتے ہوئے رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر کے لیے سرکاری 120 لٹر پٹرول منظور کر لیا۔ اور سینڈیکیٹ کو بیوقوف بناتے ہوئے یہ شق بھی منظور کروائی گئی کہ اگر یہ افسران فیول کے پیسے لینا چاہیں تو کنوینس الاؤنس کی معمولی کٹوتی 5000 کے عوض یہ فیول کی مد میں 46000 روپے لے سکتے ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کا بے دریغ استعمال سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان افسران کو یہ سہولت کاری فراہم کر دی گئی کہ 5000 کٹوا کر 46000 لے لیں۔ کیا وائس چانسلر جیسی شخصیت کو گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے مالی اثاثوں کو کوئی فکر نہیں۔ کیا ان سیٹوں پر بیٹھنے والے افراد صرف لوٹ کھسوٹ کی خاطر آتے ہیں۔ کیا ان کا ضمیر ان لوگوں کو اس چیز کی اجازت دے دیتا ہے؟ کیا ان کا ضمیر اس طرح کے چور راستوں پر بالکل ملامت نہیں کرتا۔ یہ مراعات محض سہولت کے لیے نہیں بلکہ ایک دباؤ کے آلے (pressure tactic) کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سنڈیکیٹ سے یہ منظوریاں اس لیے لی جاتی ہیں تاکہ یہی افسران مستقبل میں سنڈیکیٹ کے کسی بھی فیصلے میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔ اگر کوئی افسر اختلاف رائے یا مزاحمت کی کوشش کرے تو اسے کھلے الفاظ میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کے لیے پٹرول اور دیگر مراعات بھی اسی سنڈیکیٹ سے منظور کی گئی ہیں، لہٰذا وہ ان فیصلوں کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔ ماہرین کے مطابق یہ طرز عمل نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ادارہ جاتی بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔ اب ایک بار پھر اسی نوعیت کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آنے سے یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا جامعات میں مالی نظم و ضبط مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ماہانہ لاکھوں روپے کا اضافی مالی بوجھ قومی خزانے پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب جامعات شدید مالی بحران، ترقیاتی منصوبوں کی بندش اور اساتذہ و ملازمین کی بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ افسران کے لیے خود ساختہ مراعات کی منظوری کو تعلیمی نظام کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیا جا رہا ہے۔







