ملتان (کورٹ رپورٹر)شوہر کی دوسری شادی اور ظلم و تشدد ثابت ہو جائے تو خلع نہیں، باقاعدہ فسخِ نکاح کا حق ملے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر شوہر بیوی کی اجازت اور آربٹریشن کونسل( مصالحتی کونسل) کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرے تو یہ ظلم شمار ہوگا اور بیوی Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے تحت فسخِ نکاح کی حقدار ہوگی۔عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر بیوی نے ظلم کی بنیاد پر فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر کیا ہو تو عدالت اس کی رضامندی کے بغیر اس مقدمے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی اور نہ ہی بیوی کو حق مہر چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شوہر کی غیر قانونی دوسری شادی خود فسخِ نکاح کی ایک قانونی بنیاد ہے، لہٰذا بیوی حق مہر اور دیگر قانونی حقوق سے بھی محروم نہیں ہوگی۔بیوی کی رضامندی کے بغیر فسخِ نکاح کے مقدمہ کو خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہےجبکہ شوہر کی اجازت کے بغیر دوسری شادی ظلم کے مترادف ہے اور فسخِ نکاح کی مضبوط قانونی بنیاد بنتی ہے۔







