ملتان (عوامی رپورٹر)جمخانہ کلب کے نام پر CCRI ملتان کی اراضی پر قبضہ ناقابل قبول، مریم نواز ایکشن لیںملتان! ایپکا یونٹ پی سی سی سی کے صدر محمد آصف گرا نے ملتان جمخانہ کلب کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ ملتان کی جانب سے ملکی و عالمی سطح پر شہرت یافتہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان کی اراضی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “کپاس دشمن سازش” قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کپاس کی تحقیق کا مرکزی ادارہ ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کی اراضی کو تفریحی کلب میں تبدیل کرنا قومی مفاد کے خلاف اور کپاس کی پیداوار بڑھانے کی قومی کوششوں پر کاری ضرب ہے۔انہوں نے چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف سے خصوصی درخواست کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ ملتان کے اس غیر دانشمندانہ فیصلے پر فوری ایکشن لیا جائے اور جمخانہ کلب کو سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی اراضی سے ہٹا کر مناسب متبادل جگہ منتقل کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں 80 ایکٹر کاشتہ رقبہ میں سے 15 ایکٹر اراضی دینے سے تجرباتی کھیتوں میں ہونے والی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گیصدر ایپکا یونٹ پی سی سی سی نے متبادل تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے قریب ناگ شاہ میں 40 ایکڑ ویسٹ مینجمنٹ کی غیر آباد اور غیر موثر اراضی موجود ہے، جہاں جمخانہ کلب تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ یا پھر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے بالکل سامنے نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے پاس کل 680 ایکڑ اراضی ہے، جس میں سے 500 ایکڑ جلال پور پیر والا اور بقیہ 180 ایکڑ اراضی سی سی آر آئی ملتان کے بالکل سامنے ہے اس میں سے 15 ایکڑ جمخانہ کلب ملتان کے لیے مختص کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے بند دہائیوں سے جاری ہونے والے پندرہ روزہ کاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ کے اجلاس دوبارہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں شروع کیے جائیں۔ کاٹن سیزن کے تمام جائزہ اجلاس اور کپاس سے متعلق سرگرمیاں غیر تحقیقی اداروں کی بجائے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقد ہوں، جیسا کہ ماضی میں ہوتا تھا۔ زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں کی ڈومین کی پاسداری کی جائے اور کوئی ادارہ دوسرے کی حدود میں دخل نہ دے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے یکم جنوری 2025 کے فیصلے کے مطابق سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کا پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے ساتھ انضمام فوری طور پر عمل میں لایا جائے، جو ڈیڑھ سال سے التوا کا شکار ہے۔ ساتھ ہی ادارے کے زرعی سائنسدانوں اور ملازمین کے کئی سالوں کے واجب الادا تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی فوری کی جائے۔محمد آصف گرا نے کپاس کے کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے بھی مطالبہ کیا کہ قیمت کا تحفظ، سستی زرعی مداخل، بہتر مارکیٹنگ سسٹم اور مڈل مین کی اجارہ داری ختم کی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی اراضی پر قبضے کی کوشش جاری رہی تو کپاس کاشتکاروں، زرعی سائنسدانوں اور متعلقہ حلقوں کے ساتھ ساتھ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن اور اگیگا پاکستان مل کر ملک بھر میں بھرپور احتجاج کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ کپاس پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی تحقیقاتی بنیاد کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔







