سرکاری افسران کے اثاثوں کی اے آئی کے ذریعے نگرانی، ایف بی آر کو نئے اختیارات دینے کا امکان

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو وہ اختیار دیے جانے کا امکان ہے جس کے تحت جائز آمدن سے زائد اثاثے رکھنے والے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کی جا سکیں گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سرکاری افسران کے مالی اثاثوں کی نگرانی کے نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے مشکوک دولت اور غیر معمولی اثاثوں کی نشاندہی کی جائے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے بتایا کہ ایف بی آر کو ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف تحقیقات کا اختیار دیا جائے گا جن کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔
حکام کے مطابق نیا AI بیسڈ مانیٹرنگ سسٹم سرکاری افسران کے مالی ریکارڈ کا تجزیہ کرے گا اور غیر معمولی اضافے پر خودکار طور پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا، جس کے بعد ایف بی آر فوری کارروائی شروع کر سکے گا۔
وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے 22 تک کے تمام افسران کے اثاثے اور مالی تفصیلات ایک نئے ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی سطح پر دستیاب ہوں گی۔ یہ نظام ایف بی آر کی مشاورت سے تیار کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت سرکاری افسران کو اپنے اہل خانہ کے اثاثے، بیرون ملک سفر اور دیگر مالی معلومات بھی ظاہر کرنا ہوں گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو سمیت اعلیٰ حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ AI کی نشاندہی پر فوری تحقیقات شروع کر سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں