راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-راولپنڈی: شادی کا وعدہ کرکے بنکاک سے بلائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو مکمل تحفظ نہیں دے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس، مبینہ سہولت کار خاتون گرفتار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ملک گیر غیرمعینہ ہڑتال شروع، حکومت سے مذاکرات کا انتظار-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا-جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ کہنے والی کنگنا رناوت کا مؤقف بدل گیا، نوجوانوں کو ملک کی بڑی طاقت قرار دے دیا

تازہ ترین

سات روپے والی دوائی 70 روپے تک پہنچ گئی، وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا اعتراف

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر صحت نے اعتراف کیا ہے کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ دوا ساز کمپنیوں نے باہمی رابطے کے ذریعے ادویات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس کے نتیجے میں 7 روپے والی دوائی 70 روپے تک پہنچ گئی۔
سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبیداللہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا سروے جاری ہے اور 190 اقسام کی ادویات میں اضافہ کی تفصیلی رپورٹ ستمبر میں پیش کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ادویات کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تاکہ مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم ہو سکے، لیکن ڈی ریگولیشن کے بعد ادویہ ساز کمپنیاں مافیا کی طرح کام کر رہی ہیں۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ ڈی ریگولیشن کوئی حتمی اقدام نہیں اور اس پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ریگولیٹ کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوا کیونکہ ادویات کی قیمتیں کم نہیں ہوئیں بلکہ سب کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں