ملتان (عوامی رپورٹر) تمام تر سختیوں اور کرپشن کے خاتمے کے دعووں کے باوجود چند ہفتوں کے وقفے سے رجسٹری برانچ میں وہی پرانی کرپشن کہانی نئے پرنٹوں کے ساتھ دوبارہ شروع ہو گئی۔ اور اب پرائیویٹ ٹاؤٹ مافیا کے خلاف کارروائی ہونے کے بعد رجسٹری برانچ کے کلرکوں نے وہی دھندہ سنبھال لیا اور پھر سے کرپشن کھلے عام شروع ہو چکی ہے جو براہ راست سب رجسٹرار جاوید خان کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔ اور 15 سے 18 ہزار روپے بغیر ایف بی آر فیس بیانات کے عوض رشوت لی جا رہی ہے۔ جاوید خان کے فرنٹ مین کے فرائض پرائیویٹ مافیا کے آؤٹ ہونے کے بعد اب مومن قریشی نے سنبھال لیے ہیں جو دھڑلے سے انڈر ویلیو رجسٹریاں کر رہے ہیں۔ مومن قریشی جس کی بنیادی پوسٹنگ ڈی سی آفس کی کالونی برانچ میں ہے مگر وہ 3 سال سے زائد عرصے سے رجسٹری برانچ پر قابض ہے۔ جبکہ جاوید خان کے فرنٹ مین کے طور پر دوسرا کردار اشتیاق علی اعوان کا ہے۔ جن کے نام پر رشوت وصولی خلیل اور ثمر نامی 2 افراد کرتے ہیں اور واٹس ایپ پر سارا سسٹم چلاتے ہیں۔ جبکہ مومن قریشی کے ٹاؤٹ نیٹ ورک میں فیصل موٹا، سعید سمرا، مغیث حیدر اور حمزہ بلوچ شامل ہیں۔ دوسری طرف اشتیاق اعوان کے لیے رشوت اکٹھی کرنے والوں میں رضوان قریشی اور مسعود قریشی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ رضوان قریشی جو کہ ممتاز آباد کا رہائشی ہے اس کے پاس چند ہی سالوں میں لینڈ کروزر اور فارچونر گاڑیاں زیر استعمال ہیں۔
Registry Branch Multan #Multan #registrybranch







