امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے صرف دو سے تین دن کا وقت دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران پر حملے کے حکم کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، تاہم آخری لمحے میں اس کارروائی کو مؤخر کر دیا گیا تاکہ مذاکرات کے عمل کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر بات چیت ناکام ہوئی تو واشنگٹن سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت جاری ہے اور دونوں ممالک کسی نئی جنگ یا فوجی تصادم کے خواہشمند نہیں ہیں۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے فعال ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ جنگی حالات سے اہم فوجی تجربہ حاصل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو دنیا ایسے حالات دیکھے گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران اب پہلے سے زیادہ تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہے جبکہ عالمی سطح پر دونوں ممالک سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔







