بہاولپور(نیوز رپورٹر) سنڈیکیٹ اجلاس میں شدید اختلافات، ارکانِ سنڈیکیٹ کا احتجاجاً واک آؤٹ؛ سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تحفظات۔ تفصیلات کےمطابق دی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے92 سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 29 ستمبر 2026 میں اس وقت شدید اختلافات پیدا ہوگئے جب بعض ارکانِ سنڈیکیٹ نے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت احتجاج کیا۔ارکانِ سنڈیکیٹ کے مطابق سابقہ اجلاس میں بعض کلیدی عہدوں پر تعینات افراد کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم وائس چانسلر کی جانب سے مذکورہ فیصلے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ارکان نے اس امر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سنڈیکیٹ یونیورسٹی کا بااختیار آئینی فورم ہے اور اس کے منظور شدہ فیصلوں پر عملدرآمد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ارکانِ سنڈیکیٹ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بعض معاملات میں انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے، جس سے یونیورسٹی میں شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران ارکانِ سنڈیکیٹ نے اساتذہ سے متعلق بعض مجوزہ ایجنڈا آئٹمز پر بھی شدید مزاحمت کی اور واضح کیا کہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی جو اساتذہ کے جائز حقوق، سروس سٹرکچر، ادارہ جاتی خودمختاری یا مفادات کو متاثر کرے۔ذرائع کے مطابق صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب ارکانِ سنڈیکیٹ نے سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد اور متنازعہ ایجنڈا آئٹمز پر اپنے تحفظات کے باوجود پیش رفت نہ ہونے پر اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ارکانِ سنڈیکیٹ نے واضح کیا کہ سنڈیکیٹ کے فیصلوں کی بالادستی، شفاف احتساب، میرٹ اور اساتذہ کے جائز حقوق کا تحفظ یونیورسٹی کے انتظامی و قانونی نظام کا بنیادی تقاضا ہےاور وہ آئندہ بھی ان معاملات کو متعلقہ فورمز پر پوری قوت کے ساتھ اٹھاتے رہیں گے۔ارکانِ سنڈیکیٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ سنڈیکیٹ کے فیصلوں پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے، پیڈاکارروائی سے متعلق فیصلے کو عملی شکل دی جائے اور کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کا رروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائےمزید یہ کہ اساتذہ سے متعلق کسی بھی اقدام کو قانونی، شفاف اور باقاعدہ مشاورتی عمل سے مشروط کیا جائے۔







