ملتان (رپورٹ :اعجاز مرتضیٰ) قصور میں معصوم بچی زینب کے اغوا، بیحرمتی اور بہیمانہ قتل ، اداروں کی غفلت، عوامی احتجاج اور حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود ملک میں بچوں کے تحفظ کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا۔مزید400سےزائدبچے زیادتی کے بعد قتل کردیئے گئے،زینب کیس میں درندہ صفت مجرم عمران کوکیفرکردارتک پہنچانے میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے علاوہ حساس اداروں کاکردارانتہائی اہم رہا۔وزیراعظم شہبازشریف ( اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب) ، تمام سکیورٹی ایجنسیاں بھی متحرک ہوگئیں۔پاکستان کے عوام کے علاوہ دنیابھر کے مختلف ممالک خصوصا” یورپ اور امریکامیں بھی اس چھوٹی سی بچی پر بدترین ظلم کیخلاف احتجاج ہوالیکن کچھ عرصہ بعدپھر خاموشی ہوگئی۔شہید بچی زینب کے نام پر زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 منظور کرکے قانون تو بنا دیا گیا مگر اس پر مؤثر عمل درآمد، عوامی آگاہی اور متعلقہ اداروں کی جواب دہی آج بھی بڑے سوالات بن گئے، معصوم بچوں کے اغوا پر اغوا، جنسی زیادتی پر زیادتی، تشدد اور قتل کے مسلسل رپورٹ ہونے والے واقعات نے بچوں کے تحفظ کے حکومتی دعوؤں اور قانون کی عملی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیا، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025 تک ملک بھر میں بچوں کے خلاف مختلف جرائم کے 22 ہزار 272 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 428 بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے واقعات بھی شامل ہیں جبکہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران مزید ایک ہزار 914 کیسز رپورٹ ہوئے، ان سات برسوں کے دستیاب اعداد و شمار میں بچوں کے خلاف جرائم کے 24 ہزار 186 واقعات سامنے آئے تاہم ان میں اغوا، جنسی استحصال، قتل اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2020 میں بچوں کے خلاف 2 ہزار 960، 2021 میں 3 ہزار 852، 2022 میں 4 ہزار 253، 2023 میں 4 ہزار 213، 2024 میں 3 ہزار 364 اور 2025 میں 3 ہزار 630 واقعات رپورٹ ہوئے، ان چھ برسوں کے دوران اغوا کے 8 ہزار 115 واقعات جبکہ 428 بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 558 اغوا، 101 گمشدگیوں اور ایک ہزار 15 جنسی استحصال کے کیسز رپورٹ ہوئے، بچوں کے خلاف جرائم کی صورتحال میں پنجاب مسلسل سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے کیسز والا صوبہ رہا، تنظیم کی 2026 کی ششماہی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں پنجاب کا حصہ 80 فیصد جبکہ سندھ کا 15 فیصد تھا، باقی پانچ فیصد واقعات دیگر علاقوں سے رپورٹ ہوئے، متاثرہ بچوں میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے شامل تھے، جبکہ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثرہ قرار پائے، رپورٹ میں یہ تشویش ناک پہلو بھی سامنے آیا کہ ملزمان میں بڑی تعداد متاثرہ بچوں کے جاننے والوں کی تھی اور متعدد واقعات بچوں کے اپنے گھروں میں پیش آئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے صرف سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر نگرانی کافی نہیں بلکہ گھروں، تعلیمی اداروں اور قریبی سماجی حلقوں میں بھی حفاظتی اقدامات اور آگاہی ناگزیر ہے، زینب کیس کے بعد منظور ہونے والے قانون کے تحت گمشدہ یا اغوا شدہ بچے کی اطلاع ملنے پر متعلقہ پولیس اسٹیشن کو دو گھنٹے کے اندر زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کو مطلع کرنا، فوری تلاش اور بازیابی کی کارروائی شروع کرنا، متعلقہ اداروں سے رابطہ قائم کرنا اور کیس کی پیش رفت کا ریکارڈ مرتب کرنا لازم ہے، قانون کے تحت زینب الرٹ نظام کو بچے کی تصویر اور شناختی معلومات کے ذریعے عوامی الرٹ جاری کرنے، ذرائع ابلاغ، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع استعمال کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے جبکہ جان بوجھ کر قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالنے والے متعلقہ اہلکاروں کے لیے ایک سے دو سال قید اور 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا بھی مقرر کی گئی ہے، اس کے باوجود عام شہریوں میں زینب الرٹ نظام، اس کی موبائل ایپ، آن لائن پورٹل اور شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے، بچے کے لاپتہ ہونے پر کئی خاندانوں کو فوری طور پر متعلقہ تھانے سے رجوع کرنے، شکایت درج کرانے اور مؤثر کارروائی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے میں زینب الرٹ کے مرکزی نظام سے براہ راست رابطے اور شکایت کی پیش رفت معلوم کرنے کی سہولت سے شہریوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، وزارتِ انسانی حقوق کے مطابق زینب الرٹ نظام ایپ اور آن لائن پورٹل کے ذریعے دستیاب ہے جبکہ 1099 ہیلپ لائن کے ذریعے بھی متعلقہ شکایات آگے پہنچائی جا سکتی ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو اس نظام کے استعمال کے بارے میں آگاہ کریں اور پولیس اسٹیشنوں میں قانون کے تحت مقررہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں، وزارتِ انسانی حقوق کے پانچ سالہ ریکارڈ کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران گمشدہ یا اغوا شدہ بچوں کے 5 ہزار 337 کیسز درج ہوئے ، یہ اعداد بھی صرف وزارت انسانی حقوق کے نظام میں درج ہونے والے کیسز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسری جانب بچوں کے تحفظ کے مشن میں کام کرنے والی تنظیم کے اعداد و شمار کے تناظر میں حکومت، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور وزارتِ انسانی حقوق کی کارکردگی سے متعلق کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں کہ زینب الرٹ ایکٹ کے تحت اب تک کتنے بچوں کو فوری الرٹ جاری کرکے بازیاب کرایا گیا، کتنے کیسز میں پولیس نے مقررہ دو گھنٹے کے اندر وزارت انسانی حقوق کو اطلاع دی، کتنے واقعات میں پولیس کی تاخیر یا شکایت درج نہ کرنے پر کارروائی کی گئی اور کتنے خاندانوں کو اس قانون کے تحت قانونی معاونت فراہم کی گئی، بالخصوص پنجاب اور جنوبی پنجاب میں بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی، تشدد اور قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضلعی سطح پر مربوط نظام کی موجودگی اور اس کی کارکردگی سے متعلق مکمل اعداد و شمار تاحال عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے، زینب کیس نے ملک کو یہ سبق دیا تھا کہ بچے کی گمشدگی کے ابتدائی لمحات انتہائی اہم ہوتے ہیں اور بروقت کارروائی کسی بڑے سانحے کو روک سکتی ہے، لیکن قانون سازی کے بعد اس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مسلسل نگرانی، پولیس اہلکاروں کی تربیت، عوامی آگاہی، فوری شکایت کے اندراج اور اداروں کے درمیان رابطے کو یقینی بنانا ضروری ہے، بچے کے لاپتہ ہونے کی صورت میں والدین کو فوری طور پر پولیس اور متعلقہ ہنگامی اداروں کو اطلاع دینے کے ساتھ زینب الرٹ پورٹل یا”آواز” ایپ پر بھی شکایت درج کرانی چاہیے، 1099 ہیلپ لائن سے رابطہ کرکے شکایت کی پیش رفت معلوم کرنی چاہیے اور شکایت کا نمبر، دستیاب دستاویزات اور متعلقہ معلومات محفوظ رکھنی چاہئیں، زینب کے نام پر بننے والے قانون کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب بچے کے لاپتہ ہوتے ہی ریاستی مشینری فوری حرکت میں آئے، متاثرہ خاندان کو تھانوں کے چکر لگانے کے بجائے مؤثر معاونت ملے، بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا ملے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کا بھی شفاف احتساب ہو، بصورت دیگر قانون کی کتاب میں موجود شقیں اور موبائل ایپ کی سہولت بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بنیادی مقصد کو مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکیں گی۔







