بی زیڈ یو میں آؤٹ سائیڈرز کا غنڈہ راج، تشدد معمول، آر او ضمانتی، پولیس سے چھڑوا لیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) زکریا یونیورسٹی ملتان کی حدود میں آئوٹ سائیڈرز کی جانب سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر غنڈہ گردی اور تشدد کا دوسرا واقعہ، ٹیچرز یونین کے دباؤ پر ریزیڈنٹ آفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر کی جانب سے کارروائی سے انکار پر موقع سے پکڑے جانے والے غیر طالبعلم غنڈہ عناصر پولیس نے رہا کر دیئے۔ حملہ آور ملزمان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ ہو سکی حالانکہ انہوں نے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے 2 طالب علموں اور سکیورٹی کے 3 ملازمین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ 2 روز قبل عدنان چٹھہ، محسن سیال، احمد راجپوت، حمزہ اور محمد نوید سمیت 20 کے قریب انہی مسلح افراد نے یونیورسٹی کی حدود میں گھس کر ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اطلاع ملنے پرسکیورٹی کے عملے نے ان میں سے 3 افراد کو حراست میں لے لیا اور انہیں سکیورٹی آفس میں پابند کر کے پولیس کو اطلاع دے دی۔ پولیس کے پہنچنے سے چند لمحے قبل 20 کے قریب اوباش نوجوانوں نے زکریا یونیورسٹی کےسکیورٹی آفس پر حملہ کر دیا اور وہاں پر موجود جاوید، سلیم اور عامر کو مکوں اور ٹھڈوں سے ادھ موا کر دیا۔ پولیس نے موقع سے 9 آؤٹ سائیڈر غنڈوں کو گرفتار کر لیا اور سکیورٹی انچارج سے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے کورنگ لیٹر پر درخواست دیں تاکہ ان کے خلاف فوری کارروائی ہو سکے جس پرسکیورٹی کے عملے نے ڈاکٹر مقرب اکبر سے رابطہ کیا جس پر ڈاکٹر مقرب اکبر نےسکیورٹی عملے سے کہا کہ ان پر ٹیچرز کی طرف سے دباؤ ہے۔ اس معاملے کو دبا دیا جائے۔ یونیورسٹی کی بدنامی ہوتی ہے اور اس بارے میں ڈاکٹر مقرب اکبر نے پولیس کو بھی آگاہ کردیا جس پر گرفتار شدہ آؤٹ سائیڈر غنڈوں کو پولیس نے رہا کر دیا۔ یاد رہے کہ 2 روز قبل اسی گروہ نے یونیورسٹی حدود کے اندر بینک کے قریب واقع شاہد کی کینٹین پر بھی غنڈہ گردی کی تھی اور طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ قوم کی جانب سے جب یونیورسٹی کے مختلف پروفیسر حضرات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی غنڈہ عناصر کی آماج گاہ بنی ہوئی ہے۔ ہم تو اپنی عزت بچائے پھرتے ہیں۔ ابھی تو طالب علموں کو مار پڑ رہی ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب اساتذہ بھی سر عام تشدد کا نشانہ بنیں گے اور کوئی بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔ غنڈہ عناصر کی دیدہ دلیری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ پولیس جب حمزہ نامی لڑکے کو سکیورٹی آفس سے گرفتار کر کے پولیس کے ڈالے میں بٹھا رہی تھی اس نے بلند آواز میں سکیورٹی انچارج سے کہا کہ میں شام کو تمہارے گھر آؤں گا۔ بھاگ لو۔ جتنا بھاگنا ہے۔

BZU MULTAN
#BZU #BzuMultan

شیئر کریں

:مزید خبریں