بہاولپور (کرائم سیل) تھانہ سول لائن اے سی ٹرمینل کے واش روموں کے پاس سے نشئی خنجر کی نوک پر بچے کو اغوا کر کے سلی خانہ کے راستے ریڈیو سٹیشن کی عقب سائیڈ پر جھاڑیوں میں لے گیااور بدفعلی کی ، بچے پر شدید تشدد،ٹانگوں پر متعدد کٹس کے نشانات ۔ رات کی تاریکی میں بچہ نامکمل لباس میں جنسی درندے سے جان چھڑوا کر روڈ پر پہنچا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے میڈیکل ٹیسٹ اور فرانزک سائنس کے لیے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے مگر موثر تلاش نہ ہونے کی وجہ سے بچے کا ملزم ابھی تک گرفتار نہ ہو سکا۔ڈرے سہمے ہوئے متاثرہ بچے نے وزیرا علیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈی پی او بہاولپور سے ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی سماجی حلقوں نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے، سی سی ڈی کو انوالو کرنے اور بچے کی ذہنی افزائش کے لیے متعلقہ محکموں سے موثر اقدامات کرانے کا مطالبہ کیا ہےجبکہ تحقیقاتی اے سی ٹرمینل اور ملحقہ علاقوں میں منشیات فروشی کی وجہ سے نشئیوںکی بڑی تعداد میں آزادانہ موجودگی واقعہ کا سبب قرار دے رہے ہیں تفصیلات کے مطابق بہاولپور میں منشیات کے رجحان کے دوران عوام میں آگاہی مہم کے لیے چلائی گئی فوٹیج میں تھانہ سول لائن کی حدود لاری اڈہ کے متعلق یہ تفصیلات شیئر کی گئی تھی کہ اس وقت اےسی بس ٹرمینل کی بیک سائیڈ سلی خانہ، عزیز آباد کالونی اور ریڈیو اسٹیشن کی عقب میں نشئیوں کا ٹولہ موجود ہیں اور منشیات فروشی ہو رہی تھی۔ تمام تر تفصیلات سے متعلقہ پولیس کو آگاہ کیا گیا مگر کوئی موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ دل خراش واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ بچے کے مطابق وہ اپنے بھائی کے ساتھ فوتیدگی میں شرکت کرنے کے لیے رات ایک بجے کے قریب اےسی بس ٹرمینل پہنچا۔ ٹکٹیں لے کر میرا بھائی شناختی کارڈ کی انٹری کرانے میں مصروف تھا، میں اس سے پوچھ کر پیشاب کرنے کے لیے واش روم کی تلاش میں گیا۔ وہاں پر موجود اس شخص نے مجھے کہا کہ’’آؤ، میں آپ کو باتھ روم کی طرف لے جاتا ہوں۔‘‘ جب ہم سلی خانہ کے پاس اندھیرے میں پہنچے تو اس نے مجھے تھپڑ مارے اور پھر خنجر نکال لیا اور مجھے عزیز آباد کالونی کی گلی سے لیتا ہوا سیدھا ریڈیو اسٹیشن کی دیوار ٹوٹے ہوئے حصے کے قریب لے گیا۔ وہاں جھاڑیاں تھیںاور میرے ساتھ بدفعلی کی۔ جیسے ہی میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا میں نے اپنے والدین کو اطلاع دی۔ پولیس کے پاس 15 پر اطلاع ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا اور موقع پر گئے۔ وہاں سے بچے کی جوتی اور کپڑے برآمد ہوئے۔ پولیس نے تمام تر شواہد اکٹھے کیے اور بچے کا میڈیکل ٹیسٹ کروایا کیونکہ اس کی ٹانگوں پر زخموں کے نشانات تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پولیس کو ملزم کے حلیے کا اندازہ ہو گیا ہےمگر ابھی تک پولیس نے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی۔ متاثرہ بچے نے اپیل کی ہے کہ مجھے انصاف دلایا جائے۔ بچے کی آنکھوں میں شدید خوف ہے اور پانچ روز گزر جانے کے بعد بھی وہ سہما ہوا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین، ادارے، اور تنظیمیں موجود ہیں، لیکن ان تمام تر اقدامات کے باوجود بعض اوقات عملی طور پر تفتیش اور کارروائی میں کمی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے متاثرہ بچوں کو انصاف ملنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت، پولیس، اور متعلقہ اداروں کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچوں کو فوری مدد اور تحفظ فراہم کیا جائے۔







