تازہ ترین

بہاولپور: رخسانہ اغوا کو ایک ماہ، پولیس ناکام، والدین انصاف کیلئے دربدر، خودسوزی دھمکی

بہاولپور(کرائم سیل)16 سالہ رخسانہ کے مبینہ اغوا کو ایک ماہ گزر گیا، والدین انصاف کے منتظر،بہاولپور کے علاقے خانقاہ شریف گوٹ میرو وسو والا کھو میں 16 سالہ لڑکی رخسانہ کے مبینہ اغوا کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس تاحال بچی کو بازیاب کروانے میں ناکام رہی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق مسافر خانہ تھانے میں ایک ماہ قبل مقدمہ درج کروایا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور نشاندہی پر بعض مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست ملزمان نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ “ہم بچی کو کل یا پرسوں واپس کر دیں گے”، مگر اچانک صورتحال تبدیل ہو گئی اور پولیس کا روایتی انداز سامنے آ گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق پولیس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے بہاولپور تک مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنے کے باوجود بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔بچی زندہ ہے یا مردہ کوئی سراغ نہ لگایا جا سکا متاثرہ والدین کا الزام ہے کہ پولیس نے بار بار تھانے کے چکر لگوائے اور مختلف مراحل پر اخراجات بھی لیے، لیکن عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی۔ خاندان کے مطابق جن افراد کی نشاندہی کی گئی تھی، انہیں چند گھنٹوں حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ مزدور مظلوم والد منیر احمد قوم آرائیں نے روتے ہوئے سعودی عرب سے ویڈیو پیغام میں اپنی 16 سالہ بیٹی رخسانہ کی بازیابی کے لیے دہائی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود ان کی بیٹی مبینہ طور پر درندہ صفت افراد کی گرفت میں ہے، جبکہ تھانہ مسافر خانہ میں تعینات سب انسپکٹر ایس ایچ او ارشاد کاظمی سمیت متعلقہ پولیس حکام اب تک مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کے مطابق تھانے میں لائے گئے ملزمان نے چند روپوں کے عوض بچی کا سودا کیا اور بعد ازاں ملزمان کو فرار ہونے کا موقع دے دیا گیا۔ ہر گزرتا دن ان کی اذیت میں اضافہ کر رہا ہے، مگر بچی کی بازیابی کے لیے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔بچی کی والدہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود ان کی بیٹی گھر واپس نہیں آئی اور وہ انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب ، ڈی پی او، آر پی او اور دیگر حکامِ بالا سے فوری نوٹس لینے اور بچی کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔پنجاب پولیس کے روایتی اندازِ تفتیش اور رویے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پولیس نظام میں بہتری کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پرانے روایتی نظام کی عکاسی کر رہے ہیں۔متاثرہ خاندان نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد کارروائی نہ ہوئی تو وہ ڈی پی او آفس کے سامنے خود سوزی پر مجبور ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں