ملتان ( قوم انویسٹی گیشن سیل ) واسا ملتان میں ایکسین گلگشت و ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسپوزل نارتھ ڈویژن کی اہم سیٹوں پر براجمان رانا محمد اکرام کی گریڈ 14 سے 17 میں ترقی بارے بھی حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں ، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ( ایس اینڈ جی ڈی اے ) کی جانب سے دوران سرکاری ملازمت اعلیٰ تعلیمی قابلیت حاصل کرنے اور سٹڈی لیو سے متعلق اٹھائے سوالات کو نظر انداز کرکے ایک فرد واحد سابق ایم ڈی واسا اور چیئرمین ڈی پی سی نے ممبران کو بائی پاس کرکے رانا محمد اکرام کو گریڈ 17 میں پروموشن دیدی، واسا ملتان کی غفلت اور لاپروائی کے باعث متعدد اہم قانونی سوالات پس پشت چلے گئے، روزنامہ ’’ قوم‘‘کی تحقیقات کے مطابق رانا محمد اکرام نے 2 دسمبر 2013 کو واسا ملتان سے بی ٹیک آنرز کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بغیر سٹڈی لیو کے این او سی طلب کیا تھا جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن واسا نے خط نمبر 4363/Admin/WASA مورخہ 28 دسمبر 2013 کے ذریعے این او سی جاری کردیا۔ تاہم بعد ازاں جو بی ٹیک آنرز کی ڈگری ریکارڈ میں سامنے آئی وہ ملتان سے 100 کلو میٹر دور سر سید کالج بہاولپور روڈ ملتان کے بجائے یو کے کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور کی تھی۔رانا اکرام نے اسی بی ٹیک کی بنیاد پر محکمانہ ترقی کا کیس پیش کیا، تاہم 24 جون 2019 کو ہونے والی ڈی پی سی میں ان کا کیس چند شرائط کیساتھ زیرِ غور لانے کا کہا گیا، اس کے بعد ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن واسا موسیٰ خان نے 2 جولائی 2019 کو خط نمبر 3202/Admin/WASA کے ذریعے ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن، ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پنجاب لاہور سے رانا اکرام کی گریڈ 17 میں ترقی کے حوالے سے رہنمائی اور تجاویز طلب کیں۔ خط میں بتایا گیا کہ ایم ڈی واسا ملتان نے پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976 کی دفعہ 44 کے تحت واسا کے تقرری و شرائطِ ملازمت کے قواعد 2016 مرتب کیے ہیں، جن میں سب انجینئر سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت مختلف عہدوں پر تقرری و ترقی کا طریقہ کار درج ہے۔ خط میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ بی ٹیک آنرز رکھنے والے امیدوار کے لیے مطلوبہ پانچ سالہ تجربہ مستقل طور پر بطور سب انجینئر ملازمت شروع ہونے کی تاریخ سے شمار ہوگا یا ڈگری جاری ہونے کی تاریخ سے۔اس معاملے پر یکم نومبر 2019 کو محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ( ایس اینڈ جی اے ڈی) نے ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کیا کہ کیس کا جائزہ لینے کے بعد ریگولیشن ونگ نے بعض اہم امور کی تصدیق ضروری قرار دی ہے۔ ان میں یہ بھی شامل تھا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے متعلقہ افسر یا ملازم نے کلاسز میں شرکت کے لیے مجاز اتھارٹی سے سٹڈی لیو یا قواعد کے مطابق متعلقہ چھٹی حاصل کی تھی یا نہیں، ڈگری کے ساتھ ٹرانسکرپٹ اور حاضری کا ریکارڈ پیش کیا گیا یا نہیںجبکہ متعلقہ نجی یونیورسٹی یا ادارے کے کیمپس کی قانونی حیثیت اور اس کا علاقائی دائرہ اختیار بھی جانچا جائے۔ایس اینڈ جی اے ڈی کی جانب سے نجی اداروں سے حاصل کی گئی اعلیٰ تعلیم کی بنیاد پر ترقی کے معاملات کو انفرادی طور پر دیکھنے کی بات بھی کی گئی تھی۔ دوسری طرف واسا سروس رولز 2016 کا Rule 9(a) واضح کرتا ہے کہ مختلف گریڈز کی پوسٹوں پر ترقی مناسب کمیٹی کی سفارشات پر کی جائے گی جبکہ Rule 9(b) کے تحت ترقی کسی ملازم کا بطور حق دعویٰ نہیں ہے۔ریکارڈ کے مطابق 20 جنوری 2020 کو رانا محمد اکرام سمیت دیگر افسران کے ترقی کے لئے ڈی پی سی مقرر تھی جس کے چیئرمین اس وقت کے ایم ڈی واسا نسیم خالد چانڈیہ تھے جبکہ کمیٹی میں حکومت پنجاب ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے و ڈائریکٹر پی ایچ اے ٹی اے طاہر جاوید، ڈائریکٹر فنانس اینڈ ایڈمنسٹریشن ایم ڈی اے ملتان اکرام عزیز بلوچ اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن واسا ملتان موسیٰ خان شامل تھے۔ تاہم ریکارڈ کے مطابق ڈی پی سی کے اجلاس سے دو روز قبل یعنی 18 جنوری کو رانا اکرام کی ترقی کا الگ حکم جاری کردیا گیا جس کے بعد ان کا کیس ڈی پی سی کے ایجنڈے سے نکال دیا گیا اور اس پر کمیٹی ارکان کی بحث اور اتفاق رائے ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ چیئرمین ڈی پی سی نے اکیلے ہی دستخط کردیئے، رانا محمد اکرام کی ترقی کے کیس میں ڈی پی سی کے دیگر تین ارکان کے دستخط موجود نہ ہونے کا معاملہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، سابق ایم ڈی کی جانب سے اس اقدام کے لیے پنجاب سروس ٹربیونل لاہور کے مقدمہ’’ قاضی محمد عارف وغیرہ بنام سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ‘‘ اپیل نمبر 2630/2009 اور سابق ڈی پی سی کی سفارش کا حوالہ دیے جانے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس طرح مذکورہ معاملے میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ رانا محمد اکرام کو گریڈ 17 میں ترقی کیوں دی گئی بلکہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ 2019 میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی خود جس اعلیٰ تعلیمی قابلیت، سٹڈی لیو، ڈگری، حاضری، ٹرانسکرپٹ، ادارے اور کیمپس کی حیثیت سے متعلق وضاحتیں طلب کررہا تھا، ان کا حتمی تصدیقی عمل مکمل ہونے سے قبل ترقی کا حکم کس بنیاد پر جاری ہوا؟ پانچ سالہ تجربے کی شرط کا تعین کیسے کیا گیا؟ 20 جنوری کو ہونے والی ڈی پی سی سے صرف دو روز قبل 18 جنوری کو سابق ایم ڈی واسا و چیئرمین نسیم خالد چانڈیہ کو ترقی دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر معاملہ ڈی پی سی کے دائرہ کار میں تھا تو اسے باقاعدہ کمیٹی کے سامنے زیرِ بحث لانے کے بجائے پہلے ہی نمٹانے کی وجہ کیا تھی؟سابق ایم ڈی واسا نے اعلیٰ گریڈ کے عہدے پر ترقی دینے سے قبل ان کی تعلیمی قابلیت، سٹڈی لیو ، حاضری ، ادارے سے وابستگی اور ترقی کے لیے اہلیت کی مکمل تصدیق کی یا نہیں ؟دوسری جانب یہ سوال بھی اہم ہے کہ واسا ملازمین جوکہ اتھارٹی کے ملازم( پبلک سرونٹ) ہیں اور وہ سروس ٹربیونل کا فورم استعمال نہیں کرسکتے ، رانا محمد اکرام کی ترقی کے معاملے میں ایک سی اینڈ ڈبلیو محکمے کے سول سرونٹ ملازم کے کیس کا حوالہ کس بنیاد پر دیکر اسے ترقی دی گئی ،سپریم کورٹ کے فیصلے Haroon-ur-Rashid v. Lahore Development Authority (2016 SCMR 931) میں واضح کیا جا چکا ہے کہ قانونی اتھارٹی کے ملازمین سول سرونٹس نہیں ہوتے اور انہیں سول سرونٹس کی حیثیت سے سروس ٹربیونل کا فورم دستیاب نہیں ہوتا۔ statutory authority کے ملازمین کے معاملات میں قابلِ اطلاق قانون اور سروس رولز کے مطابق متعلقہ فورم کا تعین کیا جاتا ہے جبکہ مناسب حالات میں ہائی کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار سے رجوع کیا جاسکتا ہے اور واسا ملتان 2016 کے رولز میں جب یہ بات واضح ہے کہ ملازمین کی تعیناتی و ترقی کا معاملہ مناسب کمیٹی کرے گی تو اکیلے چیئرمین ڈی پی سی و ایم ڈی واسا نے تین ممبران کو نظر انداز کیوں کیا ؟مذکورہ معاملے میں اس وقت کے ایم ڈی واسا سمیت دیگر واسا افسران کی سنگین غفلت کی بھی نشان دہی ہوتی ہے کہ انہوں نے رانا اکرام کی بی ٹیک ڈگری بہاول پور کی پیش ہونے کے بعد یہ چیک ہی نہیں کیا کہ جب اس نے این او سی سر سید کالج آف ٹیکنالوجی بہاول پور روڈ ملتان کا لیا تھا تو ڈگری 100 کلو میٹر دور دوسرے پرائیویٹ ادارے یو کے کالج آف ٹیکنالوجی بہاول پور کی کیوں دی جوکہ ایک قانوناً جرم ہے ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب کوئی ملازم پروموٹ ہوتا ہے تو ادارہ اس ملازم کے حوالے سے اپنا ریکارڈ بھی چیک کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ جب رانا اکرام کو ترقی دی جارہی تھی تو واسا ملتان نے اس کا ریکارڈ چیک کرنے کی تکلیف کیوں نہیں کی؟موجودہ صورت حال میں ان کی ترقی کا معاملہ سنگین بے ضابطگی اور قانونی سوالات کا حامل دکھائی دیتا ہے جس کی ازسر نو غیر جانبدارانہ انکوائری ہی اصل حقائق سامنے لا سکتی ہے ۔







