تہران: ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی نگرانی مزید سخت کرتے ہوئے ایک نیا کنٹرولڈ میری ٹائم زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ایران کی خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مخصوص حصے کو باضابطہ طور پر کنٹرول زون میں شامل کر لیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ام القوین سے قشم جزیرے تک سمندری حدود کی نئی لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والی تمام بحری ٹریفک کو متعلقہ حکام سے اجازت اور رابطہ کرنا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت اس آبی گزرگاہ کی نگرانی اور کنٹرول کا اعلان کیا جا چکا ہے، جس میں بحری ٹریفک کے ساتھ ساتھ زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی نگرانی اور فیس کے نظام کی تجویز بھی شامل تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی نئی پابندی یا کنٹرول کے عالمی معیشت اور سپلائی چین پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔







