انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-انمول عرف پنکی کا ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگیا، گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک جاری رکھنے کا دعویٰ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس، منشیات نیٹ ورک پر سخت کارروائی کا عندیہ-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-شیخ زید میڈیکل کالج: ایڈمن افسر کو بچانے کیلئے ملازمہ ذہنی مریضہ قرار، بار بار تبادلے-نشتر ٹو : میڈیکل گلوز خریداری میں کروڑوں روپے سے’’ہاتھ صاف‘‘ ،افسروں کوکلین چٹ-نشتر ٹو : میڈیکل گلوز خریداری میں کروڑوں روپے سے’’ہاتھ صاف‘‘ ،افسروں کوکلین چٹ-دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا-دو سال بعد بھی انتخابی انصاف ادھورا، ٹریبونلز کارکردگی سست، سینکڑوں عذرداریاں ریز التوا

تازہ ترین

ایران جنگ کی کوریج پر ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر شدید حملہ، رپورٹس کو ’غداری‘ قرار دے دیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال کی میڈیا کوریج پر امریکی ذرائع ابلاغ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بعض رپورٹس کو امریکا کے خلاف عمل قرار دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایسی خبریں جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایران عسکری لحاظ سے امریکا سے بہتر پوزیشن میں ہے، وہ دراصل دشمن کی مدد کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی رپورٹس تہران کو غیر حقیقی امید دے رہی ہیں، حالانکہ ایران کو کسی قسم کی امید نہیں ہونی چاہیے۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔ ان کے بقول صرف ناکام، ناشکرے اور احمق افراد ہی امریکا مخالف بیانیے کو فروغ دے سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض دیگر سینئر عہدیدار بھی حالیہ دنوں میں جنگ سے متعلق تنقیدی رپورٹنگ پر مختلف امریکی میڈیا اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اسی دوران CNN کی ایک رپورٹ میں نامعلوم حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے امریکی محکمہ انصاف پر زور دیا کہ ایران جنگ سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو سمن جاری کیے جائیں تاکہ ان کے خفیہ ذرائع تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی و عسکری تنازع عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں