ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خدشات کے سبب عالمی تیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی رپورٹس کے مطابق منگل کے روز ابتدائی کاروباری سیشن میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر خدشات بڑھنے کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 13 سینٹ اضافے کے بعد 94.38 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 11 سینٹ اضافے کے ساتھ 91.41 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے جنگی کارروائیاں محدود رکھنے کے اشارے دیے تھے، تاہم تازہ بیانات اور علاقائی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی سپلائی کا اہم مرکز ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری کشیدگی براہِ راست تیل کی عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوا تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، صنعتوں اور صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔







