انوار الحق کا نام کرپشن کیس میں شامل نہ ہونے پر تحقیقات پرسوال اٹھ گئے

ملتان ( خصوصی رپورٹر ) ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان کے الزامات پر اینٹی کرپشن ملتان کی جانب سے درج مقدمے نے تحقیقات کے دائرہ کار پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایف آئی آر میں کمپنی سیکرٹری کبیر خان اور کنٹریکٹر شہزاد جٹ سمیت سات افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں لیکن حیران کن طور پر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ڈویژنل ہیڈ آپریشنز و مانیٹرنگ انوار الحق کا نام نہ تو ایف آئی آر میں شامل ہے اور نہ ہی ان کے کسی کردار کا ذکر کیا گیا ہے،اینٹی کرپشن ملتان کی جانب سے درج مقدمہ نمبر 17/2026 میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے مالی و انتظامی معاملات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق کمپنی کے مختلف امور، صفائی آپریشن، مانیٹرنگ، GPS، KPI، حاضری، گاڑیوں کے ریکارڈ اور متعلقہ ادائیگیوں سمیت متعدد معاملات کی جانچ کا ذکر موجود ہے۔ایف آئی آر میں اینٹی کرپشن کی جانب سے دستیاب ریکارڈ، کمپنی کے افسران و ملازمین اور دیگر متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ تفتیش کے لیے متعدد افسران اور متعلقہ افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے لیکن اسی معاملے میں ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ڈویژنل ہیڈ آپریشنز و مانیٹرنگ انوار الحق کو تحقیقات کے دائرے میں کیوں نہیں لایا گیا؟ کمپنی کے آپریشنل معاملات، فیلڈ میں صفائی کے کام کی نگرانی، کارکردگی کی مانیٹرنگ اور متعلقہ نظام کی نگرانی جیسے امور میں اس سطح کے افسر کی ذمہ داری اہم سمجھی جاتی ہے۔ایف آئی آر میں خود GPS، KPI، حاضری، گاڑیوں کے ریکارڈ، صفائی آپریشن اور مانیٹرنگ جیسے معاملات زیرِ بحث آئے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مبینہ بے ضابطگیوں کا تعلق کمپنی کے آپریشنز اور مانیٹرنگ کے نظام سے بھی ہے تو اس شعبے کے سربراہ انوار الحق سے اس معاملے پر وضاحت یا بیان کیوں نہیں لیا گیا اور ان کے کردار کے تعین کا بھی ایف آئی آر میں ذکر موجود نہیں جوکہ ایک سوالیہ نشان ہے، معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران GPS، KPI، فیلڈ مانیٹرنگ، گاڑیوں کی نقل و حرکت، حاضری اور صفائی آپریشن سے متعلق ریکارڈ کو بطور ثبوت دیکھا جا رہا ہے تو ان ریکارڈز کی نگرانی اور تصدیق کی ذمہ داری رکھنے والے افسران سے پوچھ گچھ بھی تحقیقات کو زیادہ واضح سمت دے سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اینٹی کرپشن ملتان انوار الحق کے کردار کو مکمل طور پر کلیئر سمجھتے ہوئے ان کا نام اور بیان تحقیقات سے باہر رکھ رہی ہے، یا آئندہ تفتیش میں انہیں بھی شامل کرکے ان کی ذمہ داری اور اختیارات کا تعین کیا جائے گا؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں