عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی توقعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی تجارتی سیشن کے آغاز پر ہی تیل کی قیمتوں میں واضح دباؤ دیکھا گیا، اور برینٹ خام تیل تقریباً 5.1 فیصد کمی کے بعد 98.22 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر سپلائی کے خدشات میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فوری طور پر کسی معاہدے کے طے پانے کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں جلد بازی سے گریز کیا جائے۔







