جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار

تازہ ترین

یو ای ٹی ملازمین کے جی پی فنڈ منافع کی عدم ادائیگی، مالی بے ضابطگیوں کے الزامات

لاہور (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے ملازمین کے جنرل پراویڈنٹ (جی پی) فنڈ میں سالانہ منافع شامل نہ کیے جانے کا معاملہ تنازع کی صورت اختیار کر گیا۔ یونیورسٹی کی ٹیکنیکل سٹاف ایسوسی ایشن (TECHSA) نے وائس چانسلر کو بھجوائی گئی ایک یاددہانی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ملازمین کے جی پی فنڈ بیلنس پر حکومت اور قواعد کے مطابق یکم جولائی 2025 کو شامل کیا جانے والا سالانہ منافع تاحال شامل نہیں کیا گیا جو نہ صرف حیران کن بلکہ یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری درخواست نمبر UET/TECHSA/55 میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی 6 اپریل 2026 کو اسی معاملے پر باضابطہ درخواست دی گئی تھی تاہم خزانہ دفتر کی جانب سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ مالی سال اختتام کے قریب ہے مگر ملازمین کے فنڈ پر منافع شامل نہ ہونا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ذرائع کے مطابق ملازمین کے جی پی فنڈ کی رقم کو مبینہ طور پر غلط انداز میں استعمال کیا گیا، جس کے باعث منافع شامل نہیں کیا جا سکا۔ ایسوسی ایشن نے اس اقدام کو اگر درست ثابت ہوا تو سنگین نوعیت کی بدعنوانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کرپشن کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ٹیکنیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد ذیشان اور صدر محمد ابراہیم بھٹی نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر خزانہ دفتر کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ ملازمین کے جی پی فنڈ میں واجب الادا منافع شامل کیا جا سکےبصورت دیگر ایسوسی ایشن اپنےبنیادی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی فورمز سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں