منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-گلگت بلتستان انتخابات 2026: خواتین ووٹرز فیصلہ کن کردار میں، کئی حلقوں میں مقابلہ انتہائی سخت-گلگت بلتستان انتخابات 2026: خواتین ووٹرز فیصلہ کن کردار میں، کئی حلقوں میں مقابلہ انتہائی سخت

تازہ ترین

بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ اہداف پر مذاکرات تاحال جاری ہیں، جبکہ ٹیکس آمدن میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں کمی سے متعلق اہم نکات پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور ترقیاتی اخراجات کے حجم سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا۔
اس مجوزہ پالیسی پر سندھ اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے صوبوں کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت کو صوبوں کو اعتماد میں لینے کا چیلنج درپیش ہے جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنا بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1126 ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 3118 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت صوبائی نوعیت کے منصوبوں کے لیے صرف 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا کے 786 ترقیاتی منصوبوں میں سے صرف 6 منصوبوں کے لیے 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 8.6 ارب روپے علیحدہ رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ صوبائی حکام کو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں پی ایس ڈی پی میں ان کا حصہ مزید کم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ صوبوں کو بھی اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے دو فیصد کے مساوی تقریباً 2900 ارب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جس پر دونوں فریقوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں